انتخابات سے پہلے مودی سرکار نے اقلیتوں کے خلاف ایک اور مذموم کارروائی کرتے ہوئے دہائیوں سے آباد سیکڑوں مسلمانوں کے گھر جلا دیئے۔
میڈیا رپورٹس کے بھارت کے شہر میرٹھ میں تجاوزات کے خلاف مہم کی آڑ میں مسلمانوں کے 200 گھر جلا دیے گئے، مقامی انتظامیہ، کنٹونمنٹ بورڈ کے ارکان اور پولیس نے 6 مارچ کو میرٹھ کی کچی آبادی بھوسا منڈی میں تجاوزات کے خلاف مہم کا آغاز کیا۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ پولیس اور انتظامیہ نے بستی پر حملہ کیا، ان کے گھر جلا دیے، نہ صرف مردوں اور عورتوں کو مارا پیٹا بلکہ فائرنگ بھی کی۔
دوسری جانب پولیس کا دعویٰ ہے کہ علاقے کے لوگوں نے ان پر پتھراؤ کیا اور اپنے گھروں کو خود آگ لگائی۔ اس دوران 4 افراد کو بھی گرفتار کرلیا گیا جس کے بعد ہنگامہ آرائی کا سلسلہ بھوسا منڈی سے مہتاب تھیٹر کے علاقے تک پھیل گیا ۔
پولیس کے مطابق مشتعل افراد نے دو درجن سے زائد گاڑیاں، موٹر سائیکلوں اور 8 بسوں کو بھی نقصان پہنچایا، بعد میں پولیس نے صورت حال پر قابو پایا۔
انتظامیہ نے واقعے کی عدالتی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے، مکانات جلنے سے بے گھر افراد کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں اور اپنی قیمتی اشیاء سے بھی محروم ہوگئے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…