ترک صدر طیب اردگان نے اخوان المسلمون کے 9 کارکنوں کو سزائے موت دینے پر مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این ترکی‘ کو انٹرویو میں صدر طیب اردگان نے پراسیکیوٹر جنرل کے قتل کے جھوٹے الزام میں اخوان المسلمون کے 9 نوجوانوں کو سزائے موت دینے پر احتجاج کرتے ہوئے مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ترک صدر نے کہا کہ 9 نوجوانوں کا عدالتی قتل کسی طور بھی قابل قبول نہیں، مصر میں عدالتیں، انتخابات اور انصاف آزاد وشفاف نہیں بلکہ طاقت کے ایک مرکز کی مرہون منت ہیں، اسی وجہ سے میں مصر کے مطلق العنان صدر سے بات کرنا بھی گوارا نہیں کرتا۔
صدر طیب اردگان نے کہا کہ ترکی سے برادرانہ اور خوشگوار تعلقات کے لیے مصر کی قابض حکومت کو اخوان المسلمون کو امن پسند جماعت قبول کرتے ہوئے جماعت کے تمام اسیروں کو رہا کرنا ہوگا، صرف اسی صورت میں مصری صدر سے بات چیت پر آماہ ہوسکتا ہوں۔
واضح رہے کہ ترکی اور مصر کے درمیان تعلقات میں 2013ء میں فوجی بغاوت میں صدر مرسی کا تختہ الٹنے کے بعد سے کشیدگی قائم ہے۔ مصر میں اسیر سابق صدر محمد مرسی کے ترک صدر کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…