ترک صدر طیب اردگان نے اخوان المسلمون کے 9 کارکنوں کو سزائے موت دینے پر مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این ترکی‘ کو انٹرویو میں صدر طیب اردگان نے پراسیکیوٹر جنرل کے قتل کے جھوٹے الزام میں اخوان المسلمون کے 9 نوجوانوں کو سزائے موت دینے پر احتجاج کرتے ہوئے مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ترک صدر نے کہا کہ 9 نوجوانوں کا عدالتی قتل کسی طور بھی قابل قبول نہیں، مصر میں عدالتیں، انتخابات اور انصاف آزاد وشفاف نہیں بلکہ طاقت کے ایک مرکز کی مرہون منت ہیں، اسی وجہ سے میں مصر کے مطلق العنان صدر سے بات کرنا بھی گوارا نہیں کرتا۔
صدر طیب اردگان نے کہا کہ ترکی سے برادرانہ اور خوشگوار تعلقات کے لیے مصر کی قابض حکومت کو اخوان المسلمون کو امن پسند جماعت قبول کرتے ہوئے جماعت کے تمام اسیروں کو رہا کرنا ہوگا، صرف اسی صورت میں مصری صدر سے بات چیت پر آماہ ہوسکتا ہوں۔
واضح رہے کہ ترکی اور مصر کے درمیان تعلقات میں 2013ء میں فوجی بغاوت میں صدر مرسی کا تختہ الٹنے کے بعد سے کشیدگی قائم ہے۔ مصر میں اسیر سابق صدر محمد مرسی کے ترک صدر کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…