ایرانی اہل سنت کی خبریں

موجودہ معاشی بحران میں سرحدوں کی بندش سمجھ سے بالاتر ہے

زاہدان (سنی آن لائن+عبدالحمید ڈاٹ نیٹ)شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے چودہ دسمبر دوہزار اٹھارہ کے خطبہ جمعہ میں ایران میں رونما ہونے والے نئے معاشی مسائل اور عوام کی شدید پریشانیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے موجودہ حالات میں سرحدوں اور تجارتی راہداریوں کی بندش کو سمجھ سے بالاتر قرار دی۔
مولانا عبدالحمید نے سرحدی مارکیٹس کی بندش پر احتجاج کرتے ہوئے کہا: ایک طرف سے ملک پر سخت معاشی پابندیاں عائد ہوچکی ہیں اور دوسری جانب عوام بوجوہ معاشی مسائل سے دوچار ہیں، ایسے میں سرحدوں کو بند رکھنا کسی طرح معقول اقدام نہیں ہے۔ سرحدوں کو کھلی رکھ کر عوام کو کاروبار اور تبادلے کی اجازت دینی چاہیے تاکہ کوئی کمائی ان کے حصے میں آجائے۔
انہوں نے مزید کہا: سرحدی زیروپوائنٹس پر کاروبار بعض مخصوص اداروں کی اجارہ داری میں نہیں ہونا چاہیے؛ عوام ہی کو اجازت دی جائے تاکہ وہ کچھ کماکر نان شبینہ کا محتاج بن کر نہ پھریں۔
ممتاز سنی عالم دین نے کہا: ہم پہلے بھی واضح کرچکے ہیں اور اب بھی اعلان کرتے ہیں کہ عوام بے روزگاری سے پریشان ہیں، انہیں روزگار فراہم کرنے کے لیے کوئی تدبیر کریں۔ قانون نافذکرنے والوں کو نازک حالات کی حساسیت سمجھ لینا چاہیے، غیرضروری سختی دکھانے کے بجائے عوام کی معیشت کا پہیہ چلانے کے لیے قانونی چارہ جوئی کریں۔
مولانا عبدالحمید نے کاشتکاروں اور کسانوں کی حمایت پر زور دیتے ہوئے کہا: صوبہ سیستان بلوچستان کئی سالوں سے قحط سے دوچار ہے، اس کے باوجود کچھ لوگ زراعت میں مصروف ہیں اور پانی کی قلت کو آڑے نہیں آنے دیتے ہیں۔ متعلقہ حکام ان کی حمایت کریں تاکہ وہ اپنی زراعت میں ترقی لائیں اور دوسروں کو بھی اس کام میں لگاکر روزگار فراہم کریں۔

نوجوان کوئی پیشہ سیکھ کر کام کریں
خطیب اہل سنت زاہدان نے حلال اور قانونی کاروبار پر زور دیتے ہوئے کہا: آپ جس کاروبار میں لگ جائیں، آپ کے بچے بھی اسی کاروبار کی طرف مائل ہوجائیں گے، لہذا حلال اور قانونی کاروبار اپنائیں۔ جس شخص کے پاس کوئی بھی ہنر اور حرفہ ہے، وہ دوسروں کے لیے کارجوئی کرکے اپنی حدتک انہیں روزگار فراہم کرے۔ لوگوں کو جائز اور قانونی راستوں سے پیسہ کمانے کی ترغیب دیں۔ خواتین اپنے گھروں میں دستکاری اور ہاتھ کے بنائے ہوئے ہنر تیار کرکے مارکیٹ میں روانہ کریں۔
انہوں نے سرکاری ووکیشنل سینٹرز کی سرگرمیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: ووکیشنل سینٹرز کی تنظیم ملک اور صوبے میں اہم کام کررہی ہے، لہذا نوجوان حضرات و خواتین اس کے ورکشاپس کا فائدہ اٹھاکر اپنے لیے مناسب روزگار کی راہ فراہم کریں۔
مولانا عبدالحمید نے مزید بات کرتے ہوئے حاضرین کو ترغیب دی روزگار اور پیشہ سکھانے والے ادارے کی مالی حمایت کریں تاکہ نوجوان پیشہ ور بن کر بے روزگاری سے نجات پائیں۔

baloch

Recent Posts

“پابندیوں میں اضافہ”، “طویل جنگ” اور “پرانی پالیسیوں پر اصرار” ملک کو مزید بحرانوں کی طرف دھکیل رہے ہیں

"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…

4 days ago

لاہور ہائیکورٹ کا افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نہ نکالنے کا تحریری حکم آگیا

لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…

4 days ago

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے

1 week ago

حقوق انسانی، عالمی منشور اور سیرتِ نبویﷺ

مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…

2 weeks ago

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں بول پڑے

مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…

2 weeks ago

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان

2 weeks ago