بيانات

دنیا و آخرت میں امن کی ضمانت ’ایمان‘ میں ہے

خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے پانچ اکتبر دوہزار اٹھارہ کے خطبہ جمعہ میں ’ایمان‘ کو امن عالم کے لیے گارنٹی قرار دیا اور ’گناہ‘ و ’ظلم‘ کو امن عالم کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں ہزاروں فرزندانِ توحید سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ایمان کا لفظ ’امن‘ سے ماخوذ ہے اور اس سے معلوم ہوتاہے کہ دنیا و آخرت کا امن ایمان ہی میں ہے۔ درست عقیدے اور ایمان سے افراد اور دنیا کا امن قائم ہوگا۔
انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی حکایت نقل کرتے ہوئے کہا: جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے معبودانِ باطلہ کے بارے میں اپنی قوم سے بات کی، انہوں نے حضرت ابراہیم کو دھمکایا کہ باطل خداؤں یا ان کے جیالوں کی جانب سے تمہیں نقصان پہنچے گا۔ حضرت ابراہیم نے ان کے جواب میں فرمایا: «الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ؛ جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم سے مخلوط نہیں کیا ان کے امن ہے اور وہی ہدایت پانے والے ہیں۔ (انعام:82)»
صدر و شیخ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے کہا: اگر بندہ گناہوں سے پرہیز کرے اور اللہ تعالی اور اس کے بندوں کے حقوق کا خیال رکھے، اس کا مال، عزت اور جان اللہ کے امان میں رہیں گے۔ جس کو اللہ امن میں رکھے، کوئی بھی شخص اس کا امن نہیں چھین سکتا۔
انہوں نے مزید کہا: آج اگر دنیا بدامنی سے نالاں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کی اکثریت ایمان سے محروم ہے یا ان کا ایمان گناہوں سے ملوث ہے۔ گناہ اور ظلم خالق کے حق میں ہو یا مخلوق کے، اس کا اندازہ جتنا بھی ہو اتنا ہی امن کو نقصان پہنچے گا۔
ممتاز سنی عالم دین نے کہا: حدیث کے مطابق اگر کسی کے پیر پھسل جائیں، اسے چاہیے کہ استغفار کرے، چونکہ یہ سرگردانی و پریشانی گناہ کا نتیجہ ہے۔ گناہوں سے دوری کرنے پر اللہ تعالی ہمیں زندگی کی مشکلات کے سامنے حفاظت فرماتاہے۔ تمام مصیبتوں اور مشکلات کا بہترین علاج استغفار ہے۔ معاشرے کے مسائل اور پریشانیاں ہمارے ہی اعمال کے نتائج ہیں۔ معاشی مشکلات، اختلافات اور خاندانی و قبائلی اختلافات کی اصل وجہ ہمارے گناہ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: رب العزت نے نبی کریم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اللہ تعالی اور پیروکار مومن ہی آپ کے لیے کافی ہیں۔ خدا تک پہنچنے کے لیے تقویٰ کی ضرورت ہے؛ اللہ تعالی کو راضی کرنے کے لیے نعرہ لگانا اور محض دعوے کرنا کافی نہیں ہے۔ اہل ایمان کو ساتھ رکھنے کے لیے ان کا احترام کرنا ضروری ہے۔ صدر اسلام میں یہی طریقہ اپنایا گیا اور نبی کریم ﷺ کی سنت بھی یہی ہے۔

مولانا عبدالحمید نے اپنے خطاب کے آخر میں ’ہفتہ پولیس‘ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے عوامی اعتماد کو پولیس کے لیے سب سے بڑا اثاثہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا: عوام کے ساتھ اچھا برتاؤ رکھنا بہترین پالیسی ہے۔ پولیس خاص کر سرحدی علاقوں میں خدمت کرنے والے اہلکار عوام کا خیال رکھیں۔ ان کا برتاؤ ایسا ہونا چاہیے کہ جب لوگ انہیں دیکھیں، امن و سکون کا احساس کریں۔

baloch

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago