فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج نے ریاستی دہشت گردی کے دوران جمعہ کے روز سات فلسطینی شہید اور پانچ سو سے زاید زخمی ہوگئے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابقغزغزہ محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 14 سالہ محمد الحوم اور 18 برس کے ایاد خلیل الشاعر24 سالہ محمد بسام شخصہ،18 سالہ محمد علی محمد انشاصی،26 سالہ محمد اشرف العواودہ قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے براہ راست فائرنگ کا نشانہ بنے اور شہید ہوگئے۔
وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ دو مزید فلسطینی اسرائیلی فائرنگ کا نشانہ بنے ہیں، تاہم فوری طور پر ان کی شناخت نہیں ہو سکی۔ زخمی ہونے والوں میں 35 بچے، چارخواتین، چار امدادی کارکن اور دو صحافی بھی شامل ہیں۔
اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ ان کے فوجیوں نے ’’طے شدہ ضابطے‘‘ کے مطابق مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی، تاہم اسرائیلی فوج نے مخصوص حالات کی تفصیل بتانے سے گریز کیا۔
یاد رہے کہ اس سال مارچ سے اہالیاں غزہ بالخصوص اور فلسطینی بالعموم ہر جمعہ کے روز احتجاجی ریلیاں نکال رہے ہیں۔
اسرائیل۔غزہ سرحد پر ہونے والے ان مظاہروں پر اسرائیلی فائرنگ سے ابتک 191 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ شہید ہونے والوں کی محدود تعداد ایسے افراد کی ہے کہ جو مظاہرین پر اسرائیلی فضائی حملوں اور ٹینکوں کی گولا باری میں جان کی بازی ہار گئے۔
فلسطینی مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ اسرائیلی قبضے کے بعد علاقہ چھوڑ جانے والے فلسطینیوں کو وطن [اب اسرائیل] واپس آنے دیا جائے۔
اسرائیل سمجھتا ہے کہ بڑے پیمانے پر بیدخل فلسطینیوں کو واپسی کی اجازت دینا یہودی ریاست کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔ انہی حلقوں کا الزام ہے کہ حماس کی قیادت میں غزہ کی اسلام پسند حکومت ایسے مظاہرے منظم کروا رہی ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید