بھارتی ریاست بہار کے ضلع چمپارن میں جے شری رام کہنے کے باوجود مسلم نوجوان کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، ماحول کشیدہ ہو گیا۔
آر ایس ایس اور بجرنگ دل والوں نے امن برقرار رکھنے کی ہر کوشش کو ناکام بنا دیا، بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست بہار کے ضلع چمپارن میں گزشتہ دنوں سے ماحول کشیدہ ہے، 23 ستمبر کو محرم کے جلوس پر پتھرائو کیا گیا جس میں ایک درجن کے قریب افراد زخمی ہوگئے، شرپسندوں نے کرسیاں، رکسا، جھوا رام، بٹوا اور کٹھملیا وغیرہ علاقوں میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا۔
علاقے کے لوگوں نے بتایا کہ آر ایس ایس اور بجرنگ دل والوں نے امن برقرار رکھنے کی ہماری ہر کوششوں کو ناکام بنا دیا، شرپسندوں نے چھتوں سے اینٹ اور پتھر برسائے اور سڑکوں پر لوگوں کو زدوکوب کیا، ایک نوجوان اسپتال سے موٹر سائیکل کے ذریعے گھر جا رہا تھا کہ راستے میں انتہا پسند ہندووں نے حملہ کرکے اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔
خون میں لت پت لڑکے نے کہا کہ میں تو دہلی میں پڑھائی کرتا ہوں، سڑک پر بعض لوگوں نے پکڑ لیا اور جے شری رام کا نعرہ لگانے کیلیے کہا، میں نے یہ نعرہ بھی لگایا لیکن انھوں نے مجھ پر حملہ کرکے زخمی کر دیا، موتیہاری ضلع میں اقلیتی طبقہ کے تقریباً ایک درجن افراد زخمی ہو گئے، جن میں وکیل نامی شخص کی حالت نازک ہے، اس درمیان بٹوا چوک پر بعض مسلم خواتین کو بھی آر ایس ایس اور بجرنگ دل کے لوگوں نے تشدد کا نشانہ بنایا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…