شام کے شمالی صوبے حلب میں واقع باغیوں کے زیر قبضہ ایک قصبے پر جمعہ کو فضائی حملے میں چودہ شہری جاں بحق اور دسیوں زخمی ہوگئے ہیں۔
برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے حلب میں واقع قصبے اوروم الکبریٰ پر اس فضائی حملے کی اطلاع دی ہے لیکن وہ یہ بتانے سے قاصر ہے کہ یہ حملہ شامی رجیم نے کیا تھا یا کسی روسی طیارے نے بمباری کی ہے۔
رصدگاہ کے سربراہ رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ فضائی بمباری میں مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا اندیشہ ہے کیونکہ بہت سے افراد تباہ شدہ عمارت کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ مرنے والوں میں تین بچے بھی شامل ہیں ۔
اس حملے سے قبل حلب کے پڑوس میں واقع صوبے ادلب میں روسی یا شامی لڑاکا طیاروں نے تباہ کن بمباری کی تھی جس کے نتیجے نو افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ ادلب کے بیشتر علاقوں پر جہادیوں اور باغیوں کا کنٹرول ہے۔ اب صدر بشار الاسد کی حکومت اس صوبے کو بھی اپنی عمل داری میں لانے کے لیے پر تول رہی ہے۔ حلب میں شام کے دوسرے علاقوں سے بے دخل کیے گئے حکومت مخالفین کی ایک بڑی تعداد بھی رہ رہی ہے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…