شام کے شمالی صوبے حلب میں واقع باغیوں کے زیر قبضہ ایک قصبے پر جمعہ کو فضائی حملے میں چودہ شہری جاں بحق اور دسیوں زخمی ہوگئے ہیں۔
برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے حلب میں واقع قصبے اوروم الکبریٰ پر اس فضائی حملے کی اطلاع دی ہے لیکن وہ یہ بتانے سے قاصر ہے کہ یہ حملہ شامی رجیم نے کیا تھا یا کسی روسی طیارے نے بمباری کی ہے۔
رصدگاہ کے سربراہ رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ فضائی بمباری میں مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا اندیشہ ہے کیونکہ بہت سے افراد تباہ شدہ عمارت کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ مرنے والوں میں تین بچے بھی شامل ہیں ۔
اس حملے سے قبل حلب کے پڑوس میں واقع صوبے ادلب میں روسی یا شامی لڑاکا طیاروں نے تباہ کن بمباری کی تھی جس کے نتیجے نو افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ ادلب کے بیشتر علاقوں پر جہادیوں اور باغیوں کا کنٹرول ہے۔ اب صدر بشار الاسد کی حکومت اس صوبے کو بھی اپنی عمل داری میں لانے کے لیے پر تول رہی ہے۔ حلب میں شام کے دوسرے علاقوں سے بے دخل کیے گئے حکومت مخالفین کی ایک بڑی تعداد بھی رہ رہی ہے۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…