شام کے شمالی صوبے حلب میں واقع باغیوں کے زیر قبضہ ایک قصبے پر جمعہ کو فضائی حملے میں چودہ شہری جاں بحق اور دسیوں زخمی ہوگئے ہیں۔
برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے حلب میں واقع قصبے اوروم الکبریٰ پر اس فضائی حملے کی اطلاع دی ہے لیکن وہ یہ بتانے سے قاصر ہے کہ یہ حملہ شامی رجیم نے کیا تھا یا کسی روسی طیارے نے بمباری کی ہے۔
رصدگاہ کے سربراہ رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ فضائی بمباری میں مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا اندیشہ ہے کیونکہ بہت سے افراد تباہ شدہ عمارت کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ مرنے والوں میں تین بچے بھی شامل ہیں ۔
اس حملے سے قبل حلب کے پڑوس میں واقع صوبے ادلب میں روسی یا شامی لڑاکا طیاروں نے تباہ کن بمباری کی تھی جس کے نتیجے نو افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ ادلب کے بیشتر علاقوں پر جہادیوں اور باغیوں کا کنٹرول ہے۔ اب صدر بشار الاسد کی حکومت اس صوبے کو بھی اپنی عمل داری میں لانے کے لیے پر تول رہی ہے۔ حلب میں شام کے دوسرے علاقوں سے بے دخل کیے گئے حکومت مخالفین کی ایک بڑی تعداد بھی رہ رہی ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…