بحرین کی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں بتایا ہے ہفتے کی صبح ایشیائی باشندوں کے ہاتھوں اغوا ہونے والے “مسجدِ بن شدہ” کے امام شیخ عبدالجلیل حمود الزیادی کی لاش ناکارہ اشیاء کے علاقے سے برآمد ہوئی ہے۔
ٹوئیٹر پر وزارت داخلہ کے سرکاری اکاؤنٹ پر جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ لاش کو ٹکڑے کر کے تھیلیوں کے اندر رکھا گیا تھا جو اسکریپ کے علاقے کے نزدیک واقع ایک فارم کے قریب ملی۔ پولیس نے ایک 35 سالہ مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا ہے اور متعلقہ اداروں کی جانب سے تحقیقات اور مطلوبہ اقدامات جاری ہیں۔
بحرین کے عربی رونامے “الوطن” نے غیر مذکور ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ قتل کی یہ بھیانک واردات مسجد کے بحرینی امام اور بنگلہ دیشی مؤذن کے درمیان اختلاف کا نتیجہ ہے۔ مسجد کا مؤذن اپنے ہی ملک سے تعلق رکھنے والے مزدوروں میں ویزے کی تجارت کرتا تھا۔
اخبار کے مطابق مقتول امام شیخ عبدالجلیل حمود نے انصاف اور اسلامی امور و اوقاف کی وزارت کو پورے معاملے سے آگاہ کر دیا جس پر گزشتہ جمعرات کو مذکورہ مؤذن کو کام سے روک دیا گیا۔ اس اقدام نے مؤذن کو انتقامی کارروائی کی منصوبہ بندی پر مجبور کر دیا۔
یاد رہے کہ مسجدِ بن شدہ کے امام شیخ عبدالجلیل ہفتے کو نماز فجر ادا کرنے کے لیے گھر سے نکلے تھے جس کے بعد سے وہ لاپتہ ہو گئے اور گھر والوں کا امام سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ سکیورٹی اداروں نے امامِ مسجد کو تلاش کرنے کی پوری کوشش کی تاہم اس میں کامیابی حاصل نہ ہوئی۔ آخرکار اس کہانی کا اختتام شیخ عبدالجلیل کے بہیمانہ قتل کی صورت میں سامنے آیا۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار