سوال
شریعت میں نکاح کے جو دومرد گواہ ہوتے ہیں ان کی کیا شرط ہوتی ہے؟ کیا گواہوں کے لیے دلہا اور دلہن کے نام ولدیت جاننا ضروری ہے؟ یا نکاح میں کسی بھی دواجنبی مسلمان مردوں کوگواہ بنایا جا سکتا ہے؟ جب کہ دولہا اوردولہن گواہوں کے سامنے ایک ہی مجلس میں حاضر ہوں اور دولہن نے منہ پر پردہ کیا ہوا ہو؟
جواب
دلہا اور دلہن میں سے جو بھی مجلسِ نکاح میں موجود ہو اور خود ایجاب و قبول کرے یا اس کا وکیل اس کی طرف اشارہ کر کے ایجاب و قبول کرے تو اس صورت میں گواہوں کے لیے ان کا نام اور ولدیت جاننا ضروری نہیں، یعنی مجلسِ عقد میں ان کا نام لینا ضروری نہیں۔
دلہا اور دلہن میں سے جو بھی مجلسِ عقد میں موجود نہ ہو یا موجود ہو لیکن نہ تو خود ایجاب و قبول کرے اور نہ ہی ان کی طرف اشارہ کر کے ایجاب و قبول کیا جائے تو اس صورت میں اگر نکاح کے گواہ ان کو پہلے سے جانتے ہوں تو نکاح کے وقت گواہان کے سامنے صرف ان کا نام لینا بھی کافی ہے ، لیکن اگر گواہان ان دونوں کو پہلے سے نہیں جانتے ہوں تو پھر مجلسِ نکاح میں ان کا نام اور ان کے والد اور دادا کا نام لینا بھی ضروری ہوگا، ورنہ نکاح درست نہیں ہوگا۔
اجنبی آدمی جو دولہا اور دلہن کو نہ جانتاہو وہ بھی گواہ بن سکتا ہے، البتہ اس کے لیے بھی وہی تفصیل ہے جو ماقبل میں گزری۔
جب دولہا اوردولہن گواہوں کے سامنے ایک ہی مجلس میں حاضر ہوں اور دولہن نے منہ پر پردہ کیا ہوا ہو اور ا س دلہن کی طرف اشارہ کیا جائے یا اس کا نام اور والد اور دادا کا نام ذکر کرکے ایجاب و قبول کیا جائے تو بھی نکاح درست ہے۔ فقط واللہ اعلم
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید