افغانستان میں طالبان کے مختلف حملوں میں 14 پولیس اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔
غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق طالبان کی جانب سے افغان سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے لیے 2 روزہ حملوں کے اعلان کے بعد مشرقی اور جنوبی صوبوں میں مختلف چیک پوسٹوں پر حملے کیے گئے۔
صوبہ غزنی کے حکام کا کہنا تھا کہ قرب گاہ ضلع میں عسکریت پسندوں نے چیک پوسٹوں پر حملے کیے جس کے نتیجے میں 8 اہلکارہوئے جب کہ جنوبی صوبے زابل کے حکام کے مطابق عسکریت پسندوں کے متعدد چیک پوسٹوں پر حملے میں 6 پولیس اہلکار ہلاک اور 3 زخمی ہوئے۔ حملہ آور جاتے ہوئے اسلحہ بھی ساتھ لے گئے۔
دوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے غیرملکی خبررساں ادارے سے ٹیلی فونک گفتگو میں حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ہلاک پولیس اہلکاروں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے جو افغان حکام کی جانب سے بتائی گئی۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…