فلسطین کے علاقے غزہ کی مشرقی سرحد پر کل منگل کے روز ہزاروں خواتین نے اسرائیل کے خلاف ریلی میں شرکت کی۔ اس موقع پر اسرائیلی فوج نے فلسطینی خواتین کے احتجاج کو منتشر کرنے کے لیے ان پر زہریلی آنسوگیس کی شیلنگ کی جس کے نتیجے میں 134 خواتین زخمی ہوگئیں۔
’مرکزاطلاعات فلسطین‘ کے مطابق غزہ اور اسرائیل کی سرحد پر حفاظتی باڑ سے 300 میٹر کے فاصلے پر ہزاروں فلسطینی خواتین نے جمع ہو کر احتجاج کیا اور اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
’فلسطینی خواتین محاصرہ توڑنے اور واپسی کی راہ پر‘ کے عنوان سے اس ریلی میں ہزاروں کی تعداد میں خواتین اور بچوں نے شرکت کی۔
فلسطینی وزارت صحت کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ قابض فوج نے پرامن خواتین ریلی کومنتشر کرنے کے لیے ان پر بندوقوں سے فائرنگ اور آنسوگیس کی زہریلی گیس کی شیلنگ کی جس کے نتیجے میں دسیوں خواتین زخمی ہوگئیں جب کہ بڑی تعداد میں دم گھںٹے سے متاثر ہوئیں۔
وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور چَھروں سے 17 خواتین زخمی ہوئیں۔ مظاہرے میں شریک 43 سالہ ریم ابو عرمانہ نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے 14 مئی کو میرے 15 سالہ بیٹے کو گولیاں مار کر شہید کردیا تھا۔ میرا بیٹا بھی ایک پرامن مظاہرے میں شریک تھا۔ آج میں اس کا مشن آگے بڑھانے کے لیے آئی ہوں۔ ہم اپنی سرزمین اور اپنے حقوق کا دفاع کرتے ہیں۔
خیال رہے کہ 30 مارچ کے بعد سے غزہ کی مشرقی سرحد پر جاری احتجاج کے دوران اسرائیلی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں 138 فلسطینی شہید اور پندرہ ہزار سے زاید زخمی ہوچکے ہیں۔ 62 فلسطینی صرف 14 مئی کو فلسطین میں اسرائیلی ریاست کے قیام کی سالگرہ اور امریکی سفارت خانے کی القدس منتقلی کے افتتاح پر اسرائیلی فوج کی وحشیانہ کارروائیوں میں شہید ہوگئے تھے۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…