پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں جمیعت العلمائے اسلام (فضل الرحمان گروپ)کے ایک مقامی رہنما ہلاک ہوگئے ہیں۔
جے یو آئی کے رہنما مولانا حبیب اللہ مینگل کو سریاب کے علاقے میں عارف گلی کے قریب نامعلوم افراد نے سنیچر کے روز نشانہ بنایا۔ وہ اس علاقے میں واقع مسجد بلال کے امام تھے۔
مقامی پولیس کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ نماز ظہر پڑھانے کے بعد مولانا حبیب اللہ پیدل اپنے گھر کی جانب جا رہے تھے جب یہ حملہ کیا گیا۔ پولیس اہلکار نے بتایا کہ ان گھر کے قریب ہی دو نامعلوم موٹر سائیکل سوار ان کی تاک میں کھڑے تھے اور جب وہ ان کے قریب پہنچے تو مسلح افراد نے ان پر فائر کھول دیا۔ حملے میں مولانا حبیب اللہ مینگل شدید زخمی ہوئے اور ہسپتال پہنچنے سے پہلے زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے۔
مولانا حبیب اللہ جے یو آئی کے مختلف عہدوں پر فائز رہے ہیں۔ اس وقت وہ جے یو آئی ضلع کوئٹہ کے سرپرست اعلیٰ تھے۔
ان کو ہلاک کرنے کے محرکات تا حال معلوم نہیں ہوسکے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حملے کے بارے میں تحقیقات شروع کردی گئی ہیں اور انھوں نے مولانا کی ٹارگٹ کلنگ کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…