ایران کے شمالی شہر آزادشہر کے سنی خطیب نے اندرون ملک اہل سنت کے اسفار پر رکاوٹیں کھڑی کرنے پر تنقید کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا۔
سنی آنلائن نے رپورٹ دی، مولانا محمدحسین گورگیج نے اپنے تیرہ اپریل دوہزار اٹھارہ کے خطبہ جمعہ میں کہا: بلوچستان (ایران) میں دستاربندی کی تقریبات ختم ہوچکی ہیں؛ آسمان زمین پر اترا، نہ ہی حکومت تبدیل ہوگئی۔ ملک کا امن بھی تباہ نہیں ہوا۔
انہوں نے مزید کہا: جب ایسا کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا، تو حکام بھی اپنی ذاتی آرا اور توہمات کی بنیاد پر فیصلہ نہ کریں۔ بڑے علما کو آزاد چھوڑیں اور ان کے اسفار پر پابندی نہ لگائیں تاکہ وہ اس طرح کی تقریبات میں شریک ہوسکیں۔
دارالعلوم فاروقیہ کے مہتمم نے کہا: قانونی امورکے خلاف اقدام نہیں اٹھانا چاہیے جو امن کے خلاف بھی نہیں ہیں۔ زاہدان تک ملانے والے مختلف راستوں پر شہریوں کو روکنا اور ان کے شناختی کارڈز کو قبضے میں لینا غیرقانونی اقدام ہے جس سے خوف و ہراس پھیلتاہے۔
انہوں نے مزید کہا: تمام لوگوں کو آزادانہ زندگی اور سفر کرنے کا حق پہنچتاہے۔ یہ انصاف سے دور ہے کہ ایک طرف ہم غیرملکی سیاحوں کو ملک آنے کی دعوت دیتے ہیں اور دوسری طرف اپنے ہی شہریوں کو ملک میں سفر کرنے سے منع کرتے ہیں۔
مولانا گورگیج نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: حکام اس حال میں آزادی کا دعوی کرتے ہیں کہ سرکردہ سنی علمائے کرام کو دیگر صوبوںمیں سفر کرنے سے منع کرتے ہیں۔ ایسے برتاؤ بالکل غلط ہیں اور سرکش عناصر کو لگام لگانا چاہیے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…