جرمنی میں غیر مسلم انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں پر حملوں میں تشویش ناک اضافہ ہوگیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جرمن وزارت داخلہ نے گزشتہ سال مسلم مخالف حملوں کا ڈیٹا جمع کرنا شروع کردیا جس سے اس بات انکشاف ہوا ہے کہ جرمنی میں مسلمانوں اور مسلم اداروں پر حملوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ جرمن وزارت داخلہ کے مطابق گزشتہ سال مسلمانوں اور مسلم اداروں پر 950 حملے ہوئے جن میں 33 افراد زخمی ہوئے، مساجد پر بھی 60 حملے کیے گئے جن میں سے بعض واقعات میں خنزیر کا خون اور گوشت پھینکا گیا۔
جرمنی کی مسلم سینٹرل کونسل کے سربراہ ایمان میزیک نے بتایا کہ جرمنی میں مسلمانوں اور مسلم اداروں پر زیادہ تر حملوں میں دائیں بازو کے انتہا پسند ملوث پائے گئے، پچھلے چند سال میں ہونے والے حملوں کا ڈیٹا موجود نہیں۔
ایمان میزیک نے بتایا کہ اس سے پہلے مسلمان مخالف حملوں کی نگرانی بھی نہیں کی جاتی تھی، حملوں کے متاثرین بھی پولیس کو رپورٹ درج نہیں کراتے تھے، تاہم اب جرمن حکومت نے ملک میں مسلمانوں اور مسلم اداروں پر حملوں کا ریکارڈ مرتب کرنا شروع کردیا ہے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…