ٹرمپ انتظامیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ امریکا کا سفارت خانہ مقبوضہ بیت المقدس میں رواں سال مئی میں اسرائیل کے یومِ تاسیس کے موقع پر کھول دیا جائے گا۔
فرانسیسی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹیلرسن نے اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے القدس منتقلی کے منصوبے پر دستخط کردیے ہیں۔ اس سیکورٹی پلان کو خفیہ رکھا گیا ہے اورحکام کو اس پر عوامی سطح پر بحث کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ سفارت خانے کی افتتاحی تقریب رواں سال 14 مئی کو اسرائیل کے 70ویں یومِ تاسیس کے موقع پر ہوگی اور اس دن کا انتخاب اسرائیل کی آزادی کے اعزاز میں کیا گیا ہے۔
ابتدائی طور پر سفارت خانے کی منتقلی علامتی ہوگی اور بتدریج اس عمل کو مکمل کیا جائے گا۔آغاز میں نئے سفارت خانے کا عملہ چند افراد پر مشتمل ہوگا جب کہ تل ابیب میں واقع سفارت خانہ بھی معمول کے مطابق فعال رہے گا۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید