ٹرمپ انتظامیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ امریکا کا سفارت خانہ مقبوضہ بیت المقدس میں رواں سال مئی میں اسرائیل کے یومِ تاسیس کے موقع پر کھول دیا جائے گا۔
فرانسیسی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹیلرسن نے اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے القدس منتقلی کے منصوبے پر دستخط کردیے ہیں۔ اس سیکورٹی پلان کو خفیہ رکھا گیا ہے اورحکام کو اس پر عوامی سطح پر بحث کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ سفارت خانے کی افتتاحی تقریب رواں سال 14 مئی کو اسرائیل کے 70ویں یومِ تاسیس کے موقع پر ہوگی اور اس دن کا انتخاب اسرائیل کی آزادی کے اعزاز میں کیا گیا ہے۔
ابتدائی طور پر سفارت خانے کی منتقلی علامتی ہوگی اور بتدریج اس عمل کو مکمل کیا جائے گا۔آغاز میں نئے سفارت خانے کا عملہ چند افراد پر مشتمل ہوگا جب کہ تل ابیب میں واقع سفارت خانہ بھی معمول کے مطابق فعال رہے گا۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار