امریکی حمایت یافتہ افغان حکومت کے زیرکنٹرول صرف 18فیصد علاقہ رہ گیا ہے، امریکی اخبار کے مطابق زیر کنٹرول حصے پر بھی حکومتی گروپوں میں چپقلش انتہا پر ہے۔
اس سے پہلے شمالی افغان صوبہ بلخ کے گورنر عطا محمد نور استعفیٰ دے کر سبکدوش ہونے سے انکار کرچکے ہیں، ساتھ ہی کئی گورنر صدر اشرف غنی کے قابو میں نہیں ہیں۔
مخالف گورنروں سمیت افغان صدر بھی طالبان کے خلاف ہیں لیکن ان کی آپس کی لڑائی امریکا کو مزید مشکلات سے دوچار دیتی ہے جبکہ امریکا باغیوں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کی جدوجہد کرتے ہیں اور اسی سلسلے میں ٹرمپ انتظامیہ نے ان کے خلاف بم حملہ مہم بھی شروع کی تھی۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان