امریکی حمایت یافتہ افغان حکومت کے زیرکنٹرول صرف 18فیصد علاقہ رہ گیا ہے، امریکی اخبار کے مطابق زیر کنٹرول حصے پر بھی حکومتی گروپوں میں چپقلش انتہا پر ہے۔
اس سے پہلے شمالی افغان صوبہ بلخ کے گورنر عطا محمد نور استعفیٰ دے کر سبکدوش ہونے سے انکار کرچکے ہیں، ساتھ ہی کئی گورنر صدر اشرف غنی کے قابو میں نہیں ہیں۔
مخالف گورنروں سمیت افغان صدر بھی طالبان کے خلاف ہیں لیکن ان کی آپس کی لڑائی امریکا کو مزید مشکلات سے دوچار دیتی ہے جبکہ امریکا باغیوں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کی جدوجہد کرتے ہیں اور اسی سلسلے میں ٹرمپ انتظامیہ نے ان کے خلاف بم حملہ مہم بھی شروع کی تھی۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار