امریکی حمایت یافتہ افغان حکومت کے زیرکنٹرول صرف 18فیصد علاقہ رہ گیا ہے، امریکی اخبار کے مطابق زیر کنٹرول حصے پر بھی حکومتی گروپوں میں چپقلش انتہا پر ہے۔
اس سے پہلے شمالی افغان صوبہ بلخ کے گورنر عطا محمد نور استعفیٰ دے کر سبکدوش ہونے سے انکار کرچکے ہیں، ساتھ ہی کئی گورنر صدر اشرف غنی کے قابو میں نہیں ہیں۔
مخالف گورنروں سمیت افغان صدر بھی طالبان کے خلاف ہیں لیکن ان کی آپس کی لڑائی امریکا کو مزید مشکلات سے دوچار دیتی ہے جبکہ امریکا باغیوں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کی جدوجہد کرتے ہیں اور اسی سلسلے میں ٹرمپ انتظامیہ نے ان کے خلاف بم حملہ مہم بھی شروع کی تھی۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…