شمال مشرقی شام میں امریکی فضائی حملے میں کم از کم دو روسی جنگجو ہلاک ہوگئے، تاہم روس نے ابھی تک ان اموات کی تصدیق نہیں کی۔
برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ان جنگجوؤں کوشامی حکومت کی حامی ایک نجی فوجی کمپنی نے بھرتی کیا تھا۔
امریکی حکام نے کہا ہے کہ شامی صدر بشار الاسد کے حامی سیکڑوں جنگجوؤں نے دیر الزور صوبے میں خورشام قصبے کے قریب امریکی حمایت یافتہ تنظیم سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے اڈے پر حملہ کیا۔
جب انہوں نے دریائے فرات عبور کر کے ایس ڈی ایف کے اڈے پر گولہ باری شروع کی اس وقت وہاں امریکی مشیر موجود تھے۔
امریکی حکام نے بتایا کہ امریکا نے اس کے جواب میں سات فروری کو بمباری کے یہ حملہ پسپا کر دیا تھا۔
شام کے سرکاری میڈیا نے درجنوں ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ’وحشیانہ قتلِ عام‘ قرار دیا۔
اسی دوران روسی وزارتِ دفاع نے کہا کہ شام کے سرکاری فوجیوں کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف ایک کارروائی شروع کرنے والے تھے۔
روس نے اس علاقے میں اپنے کسی شہری کی موجودگی کی تردید کی ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…