زیادتی کے بعد بے دردی سے قتل ہونے والی 8 سالہ کمسن زینب کا مبینہ قاتل گرفتار کرلیا گیا۔
ایکسپریس نیوزکے مطابق قصور میں 8 سالہ بچی زینب کے قتل کا مرکزی ملزم عمران گرفتارکرلیا گیا ہے۔ گرفتار شخص کا ڈی این اے زینب کے جسم سے ملنے والے ڈی این اے سے میچ کرگیا ہے۔ ملزم قصورمیں ہونے والے ہنگاموں کے دوران ہی پہلے پاک پتن فرار ہوا جس کے بعد وہ عارف والا چلا گیا تھا جبکہ اس نے اپنی داڑھی بھی منڈوالی تھی۔
پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ گرفتارملزم نے جرم کا اعتراف بھی کرلیا ہے جوزینب کا پڑوسی ہے اورکورٹ روڈ کا رہائشی ہے۔ اس سے قبل بھی ملزم کو پولیس کی جانب سے گرفتار کیا گیا تھا تاہم بعد میں چھوڑ دیا گیا تھا۔ پولیس کی بھاری نفری عمران کے گھر کے باہر تعینات ہے جب کہ ملزم کے گھر والے نامعلوم مقام پر چلے گئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران ہی کی نشاندہی پر ایک اور ملزم بھی پکڑا گیا ہے تاہم اس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔
ترجمان پنجاب حکومت ملک احمد خان نے ایکسپریس نیوز سے گفتگو کے دوران بتایا کہ ملزم کی شناخت کے لیے کم از کم 600 افراد کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا گیا، ملزم عمران کابھی ڈی این اےٹیسٹ کیا گیا تھا، ملزم کو پاک پتن کے قریب سے گرفتار کیا گیا اور وہ گرفتاری سے بچنے کے لیے اپنا حلیہ تبدیل کرتا رہا ہے۔ تفتیش کا سلسلہ تین چار پہلوؤں پر جاری ہے، ابتدائی رپورٹ کےمطابق تمام واقعات میں ایک ہی ملزم ملوث ہے، اس کے لئے ہمیں دیگر بچیوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کے ریکارڈ درکار ہیں۔ ملزم کے ڈی این اے کی تفصیلی رپورٹ کے لیے فرانزک لیب کو کچھ وقت درکار ہے، اس لئے شام کو تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔
واضح رہے کہ قصور میں 8 سالہ بچی زینب کو اغوا اور زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا گیا تھا، بچی کی لاش کچرا کنڈی سے ملی تھی جس کے بعد ملک بھرمیں زینب کے اہل خانہ کوانصاف کی فراہمی کے لیے احتجاج کیا گیا تھا۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان