عراق کے دارالحکومت میں خودکش حملوں کے نتیجے میں کم از کم 38 افراد ہلاک جب کہ 80 زخمی ہوگئے۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق عراق کے دارالحکومت بغداد میں 2 خودکش حملوں کے نتیجے میں 38 افراد ہلاک اور 80 زخمی ہوگئے، واقعے کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جب کہ امدادی کارکنوں نے زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکا اس قدر شدید تھا کہ آس پاس کھڑی گاڑیوں اور عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ فضاء میں دھویں کے بادل چھا گئے۔
وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق دھماکا اس وقت کیا گیا جب شہر کے وسط میں لوگوں کی بڑی تعداد جمع تھی جب کہ حملے میں زخمی افراد میں سے بیشتر کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے، ابھی تک کسی بھی گروپ کی جانب سے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی تاہم خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ حملے شدت پسند تنظیم داعش کی کارروائی ہے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…