عراق کے دارالحکومت میں خودکش حملوں کے نتیجے میں کم از کم 38 افراد ہلاک جب کہ 80 زخمی ہوگئے۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق عراق کے دارالحکومت بغداد میں 2 خودکش حملوں کے نتیجے میں 38 افراد ہلاک اور 80 زخمی ہوگئے، واقعے کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جب کہ امدادی کارکنوں نے زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکا اس قدر شدید تھا کہ آس پاس کھڑی گاڑیوں اور عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ فضاء میں دھویں کے بادل چھا گئے۔
وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق دھماکا اس وقت کیا گیا جب شہر کے وسط میں لوگوں کی بڑی تعداد جمع تھی جب کہ حملے میں زخمی افراد میں سے بیشتر کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے، ابھی تک کسی بھی گروپ کی جانب سے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی تاہم خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ حملے شدت پسند تنظیم داعش کی کارروائی ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید