عراق کے دارالحکومت میں خودکش حملوں کے نتیجے میں کم از کم 38 افراد ہلاک جب کہ 80 زخمی ہوگئے۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق عراق کے دارالحکومت بغداد میں 2 خودکش حملوں کے نتیجے میں 38 افراد ہلاک اور 80 زخمی ہوگئے، واقعے کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جب کہ امدادی کارکنوں نے زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکا اس قدر شدید تھا کہ آس پاس کھڑی گاڑیوں اور عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ فضاء میں دھویں کے بادل چھا گئے۔
وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق دھماکا اس وقت کیا گیا جب شہر کے وسط میں لوگوں کی بڑی تعداد جمع تھی جب کہ حملے میں زخمی افراد میں سے بیشتر کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے، ابھی تک کسی بھی گروپ کی جانب سے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی تاہم خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ حملے شدت پسند تنظیم داعش کی کارروائی ہے۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار