امریکا میں پرائمری اسکول ٹیچر نے 6 سالہ ذہنی معذور مسلمان بچے کو اونچی آواز میں لفظ ’’اللہ‘‘ کہنے پر پولیس کے حوالے کردیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ واقعہ امریکی ریاست ٹیکساس کے ایک اسکول میں پیش آیا جہاں زیر تعلیم دماغی معذور بچے کو لفظ اللہ کہنے پر پولیس کے حوالے کردیا گیا، اسکول انتظامیہ کا موقف ہے کہ محمد سلمان نامی 6 سالہ طالب علم گونگا نہیں وہ بول سکتا ہے اور اسے لفظ اللہ کہتے ہوئے کلاس کے دیگر بچوں نے بھی سنا ہے۔
دوسری جانب سلمان کے والد کا مؤقف ہے کہ بچہ ڈاؤن سنڈروم نامی دماغی مرض میں مبتلا ہے اور وہ ذہنی طور پر مفلوج اور بولنے سے قاصر ہے لیکن پرائمری اسکول ٹیچر نے بچے کو دہشت گرد سمجھ کر پولیس کے حوالے کردیا جو خود کو انصاف کے علم بردار کہنے والے امریکا کے منہ پر طمانچہ ہے۔
محمد سلمان کے والد مہر نے مزید کہا ہے کہ اس طرح کا رویہ امتیازی سلوک ہے، دوسری جانب امریکا میں بچوں کے حفاظتی ادارے (چائلڈ پروٹیکشن سروسز) اور پولیس اس واقعے کی تفتیش کررہے ہیں۔
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید