سوال: مرد و عورت کی نماز میں کن کن چیزوں میں فرق ہے؟ تفصیل سے سمجھا دیجیے۔
جواب: عورت کی نماز بہت سی باتوں میں مرد کی نماز سے مختلف ہے۔ مثلاً مرد کو تاکید ہے کہ پنج وقتہ نماز مسجد میں حاضر ہو کر با جماعت ادا کرے، جبکہ عورت کی افضل ترین نماز وہ ہے جو گھر کی کوٹھری میں چھپ کر ادا کی جائے۔ مرد کا ستر ناف سے زانو تک ہے۔ کوئی مرد اس کیفیت سے نماز ادا کرے کہ ناف کے نیچے سے زانو کے نیچے تک جسم کا ڈھکا ہوا ہے تو نماز ادا ہوجائے گی۔ جبکہ عورت کا پورا جسم ستر ہے سوائے چہرے، ہتھیلیوں اور قدموں کے۔ ان تین اعضا کے سوا کوئی عضو بلکہ اس کا چوتھا حصہ بھی نماز میں کھل گیا اور ایک رکن کی مقدار کھلا رہا تو نماز نہیں ہوگی۔
تکبیر تحریمہ کہتے ہوئے مرد کانوں تک اور عورت کاندھوں تک ہاتھ اٹھائے، وہ بھی دو پٹے کے اندر سے۔
مرد ناف کے نیچے ہاتھ باندھے اس کیفیت سے کہ دائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور چھوٹی انگلی سے بائیں ہاتھ کو پکڑ کر اس کے پہنچے کے گرد حلقہ بنالے، جبکہ عورت کو حکم ہے کہ دائیں ہاتھ کی ہتھیلی بائیں ہاتھ کی پشت پر رکھ دے۔
اسی طرح مرد و عورت کے رکوع اور سجدہ میں دیگر کئی باتوں میں اختلاف ہے جن کی تفصیل ردالمختار: ۱؍۵۰۴ میں مذکور ہے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…