زابل (سنی آن لائن) ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان کے شمالی شہر زابل کے خطیب اور ممتاز عالم دین نے صوبے کی ممکنہ تقسیم پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے بلاشبہ اہل سنت کے ساتھ ظلم ہوا ہے۔
سنی آن لائن کے مطابق، مولانا عبدالرشید شہ بخش نے اپنے خطبہ جمعہ کے دوران حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا : صوبہ سیستان بلوچستان کو ترقی اور خوشحالی کے بہانے پر تقسیم نہ کریں، یہاں کی پسماندگی کو دیگر صوبوں سے موازنہ کریں اور مسائل کے خاتمے کے لیے کوشش کریں۔
انہوں نے کہا: اس میں کوئی شک نہیں کہ اہل سنت کے ساتھ ظلم ہوا ہے اور غفلت کی گئی ہے۔ صدر مملکت کو چاہیے اہل سنت سمیت تمام برادریوں کو دیے گئے اپنے وعدوں کو جامہ عمل پہنائیں۔ تاریخ کسی کی عہدشکنی یا وفاشعاری کو نہیں بھولے گی۔
سیستان میں اہل سنت کے مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے جامعہ بدرالعلوم زابل کے مہتمم نے کہا: کسی حد تک ملک کے مختلف علاقوں میں اہل سنت پر توجہ دی گئی ہے، لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ سیستان میں کوئی تبدیلی پیش نہیں آچکی ہے۔ اب بھی اہل سنت سٹی گورنر یا کسی محکمے کے سربراہ نہیں بن سکتے ہیں، حالاں کہ یہاں ان کی آبادی چالیس سے پینتالیس فیصد تک ہے۔
مولانا عبدالرشید نے زور دیا ہے اہل سنت کے ساتھ جو امتیازی سلوک ہوتا چلا آرہا ہے، وہ ناقابل انکار ہے۔ لہذا نگاہوں کو ٹھیک کرکے مسائل کی بیخ کنی کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…