خاش (سنی آن لائن) نامور سنی عالم دین نے صوبہ سیستان بلوچستان کی تقسیم کی بات کرنے والوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے صوبے کی تقسیم کی بات کرنے والے یہاں بدامنی پھیلانا چاہتے ہیں۔
مولانا محمد عثمان خاشی نے جامع مسجد الخلیل خاش میں بات کرتے ہوئے کہا: جو لوگ تقسیم بلوچستان کے لیے کوشش کرتے ہیں، دراصل وہ یہاں چپقلش اور بدامنی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا: حکام کو اچھی طرح معلوم ہونا چاہیے بلوچستان اپنی ’قومی‘ اور ’ثقافتی‘ شناخت ہی سے باقی رہ سکتاہے۔
یاد رہے صوبہ سیستان بلوچستان ایران کا دوسرا بڑا صوبہ ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…