خاش (سنی آن لائن) نامور سنی عالم دین نے صوبہ سیستان بلوچستان کی تقسیم کی بات کرنے والوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے صوبے کی تقسیم کی بات کرنے والے یہاں بدامنی پھیلانا چاہتے ہیں۔
مولانا محمد عثمان خاشی نے جامع مسجد الخلیل خاش میں بات کرتے ہوئے کہا: جو لوگ تقسیم بلوچستان کے لیے کوشش کرتے ہیں، دراصل وہ یہاں چپقلش اور بدامنی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا: حکام کو اچھی طرح معلوم ہونا چاہیے بلوچستان اپنی ’قومی‘ اور ’ثقافتی‘ شناخت ہی سے باقی رہ سکتاہے۔
یاد رہے صوبہ سیستان بلوچستان ایران کا دوسرا بڑا صوبہ ہے۔
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید