افغان دارالحکومت کے سفارتی علاقے میں بم دھماکے کے نتیجے میں کم ازکم 13افرادہلاک ہوگئے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق دھماکا کابل کے سفارتی علاقے وزیراکبر خان میں ہوا جہاں غیر ملکی سفارتخانوں سمیت کئی اہم سرکاری عمارتیں اور بین الاقوامی اداروں کے دفاتر موجود ہیں۔
افغان وزارت داخلہ نے دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ دھماکے میں اب تک 13افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے جب کہ واقعے میں متعدد افراد زخمی ہیں جن میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
دھماکے کے بعد سیکورٹی فورسز علاقے میں پہنچ گئیں اور جائے وقوعہ کوگھیرے میں لے لیا جب کہ ریسکیو ٹیموں نے لاشوں اور زخمیوں کو ایمبولینسوں کے ذریعے اسپتال منتقل کردیا۔
فوری طور پر کسی گروپ یا تنظیم نے واقعہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی تاہم بیشتر دھماکوں کی ذمہ داری طالبان قبول کرتے رہے ہیں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…