Syrian refugees leave after shopping with their humanitarian aid vouchers, in preparation for the Muslim holy month of Ramadan, at the Al-Zaatari refugee camp in Mafraq, Jordan, near the border with Syria June 15, 2015. REUTERS/Muhammad Hamed
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے سکریٹری برائے امورِ انسانی حقوق اور ہنگامی امداد کے امور کے رابطہ کار مارک لوکک نے انکشاف کیا ہے کہ شام میں 63 لاکھ افراد کو انسانی امداد کی فوری ضرورت ہے اور انہیں استثنائی طور پر شدید خطرات کا سامنا ہے۔
سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران لوکک نے واضح کیا کہ یہ افراد بنیادی ضرورت کی اشیاء اور خدمات کے محتاج ہیں۔ انہوں نے باور کرایا کہ تنازع اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کے جاری رہنے سے شام کے اندر بالخصوص مشرقی حصے میں شہریوں کے انسانی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔
لوکک کے مطابق تقریبا 30 لاکھ شامی ابھی تک محصور علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں جن تک پہنچنا دشوار ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مشرقی غوطہ کے علاقے پر فضائی حملے جاری رکنے کے نتیجے میں امدادی سامان کے وہاں پہنچنے کے امکانات کم ہو گئے۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار