افغانستان میں دو مساجد پر خود کش حملوں کے نتیجے میں 60 سے زائد افراد جاں بحق جب کہ درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔
غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل میں امام زمان مسجد میں خودکش بمبار نے گھس کر نمازیوں پرفائرنگ شروع کردی اورپھر خود کو دھماکے سے اڑادیا جس کے نتیجے میں 40 افراد جاں بحق اور 45 زخمی ہوگئے جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔
کابل دھماکے کے کچھ ہی دیر بعد افغانستان کے صوبے غور کی مسجد میں بھی خودکش حملے کے نتیجے میں 20 سے زائد افراد جاں بحق اور 10 زخمی ہوگئے۔ ترجمان افغان وزارت داخلہ کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔
دوسری جانب شدت پسند تنظیم داعش نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی جب کہ افغان صدر اشرف غنی نے دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار