افغانستان میں دو مساجد پر خود کش حملوں کے نتیجے میں 60 سے زائد افراد جاں بحق جب کہ درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔
غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل میں امام زمان مسجد میں خودکش بمبار نے گھس کر نمازیوں پرفائرنگ شروع کردی اورپھر خود کو دھماکے سے اڑادیا جس کے نتیجے میں 40 افراد جاں بحق اور 45 زخمی ہوگئے جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔
کابل دھماکے کے کچھ ہی دیر بعد افغانستان کے صوبے غور کی مسجد میں بھی خودکش حملے کے نتیجے میں 20 سے زائد افراد جاں بحق اور 10 زخمی ہوگئے۔ ترجمان افغان وزارت داخلہ کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔
دوسری جانب شدت پسند تنظیم داعش نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرلی جب کہ افغان صدر اشرف غنی نے دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…