سوال… ہمارے ہاں عموماً لوگ رمضان المبارک میں سحری کے وقت اذانوں کے ہوتے ہوئے بھی کھانا پینا جاری رکھتے ہیں او رکہتے ہیں کہ اذان کے ختم ہونے تک کھانا پینا جائز ہے، کیا ان کا یہ عمل درست ہے؟ یا اس سے روزے میں خلل واقع ہوتا ہے؟ اور اذان کے وقت کھانے والے کے لیے شرعاً کیا حکم ہے؟ مفصل ومدلل جواب دے کر عندالله ماجور ہوں۔
جواب… لوگوں کا اذان کے دوران کھانا پینا غلط اوراس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
ہاں اگر یہ امر یقینی ہو کہ اذان انتہائے وقتِ سحر سے پہلے ہوئی ہے تو ایسی صورت میں روزہ تو درست ہو جائے گا ،لیکن اذان واجب الاعادہ ہو گی۔
لیکن عام طور پر ایسا نہیں ہوتا، بلکہ اذان وقت کے اندر ہی دی جاتی ہے، اس لیے اذان کے دوران کھانے ، پینے سے اجتناب بہرحال لازم ہے، احتیاط تو اس میں ہے کہ اذان سے چند منٹ پہلے ہی کھانا پینا بند کر دیا جائے۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…