تہران (سنی آن لائن) دارالحکومت تہران میں ایران کی سنی برادری کے سینئر علمائے کرام و دانشوران اکٹھے ہوچکے ہیں۔ مولانا عبدالحمید کی کال پر اکٹھے ہونے والے رہ نما صدارتی انتخابات کے حوالے سے سٹریٹجک میٹنگز میں شرکت کررہے ہیں۔
سنی آن لائن کی رپورٹ کے مطابق، اتوار سات مئی کی شام کو چار گھنٹے تک جاری رہنے والی میٹنگ میں اہل سنت کے مطالبات اور مسائل پر تفصیل سے گفتگو ہوئی۔ مذکورہ میٹنگ شیخ الحدیث و صدر دارالعلوم زاہدان مولانا عبدالحمید کی صدارت میں منعقد ہوئی۔
اس میٹنگ میں ایران کے صوبے سیستان بلوچستان، تہران، گیلان، گلستان، خراسان جنوبی، خراسان رضوی، کردستان، کرمانشاہ اور بعض دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات شریک ہوئیں۔ مجلس شورا (پارلیمنٹ) کے حالیہ و سابقہ سنی ارکان بھی اہل سنت کی سٹریٹجک میٹنگ میں حصہ لے رہے ہیں۔
یاد رہے گزشتہ انتخابات میں ایران کی سنی برادری نے موجودہ صدر، ڈاکٹر روحانی کو ووٹ دیا تھا۔ لیکن آنے والے انتخابات میں اب تک کسی امیدوار سے حمایت کا اعلان نہیں ہوا ہے۔ ایران کا بارہواں صدارتی الیکشن انیس مئی کو ہوگا۔
سٹریٹجک میٹنگ کے شرکا نے آخر میں ایک ’سپریم شورا‘ بنانے پر اتفاق کیا۔ سپریم شورا اہل سنت کے اصل مطالبات اور مسائل کا تعین کرکے صدارتی انتخابات کے امیدواروں سے براہ راست مذاکرات کرے گا اور سنی برادری کے نمائندوں کو نتائج سے آگاہ کرے گا۔ کسی مخصوص امیدوار سے حمایت کے حوالے سے فیصلہ چند دنوں میں ہوگا۔
سنی رہنماوں کا کہنا ہے اہل سنت ایران کی آبادی کم ازکم پندرہ ملین ہے۔ گزشتہ انتخابات میں سات ملین کے قریب سنیوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…