فرانس کے دارالحکومت پیرس میں مسلم کمیونٹی نے حکومت کی جانب سے مساجد فراہم نہ کرنے پر سڑک پر احتجاجاً نماز پڑھی۔
فرانس میں مقیم 50 لاکھ سے زائد مسلمانوں کو اپنی عبادت گاہوں کی کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جب کہ فرانس حکومت کی جانب سے بھی مسلم کمیونٹی سے کسی قسم کا تعاون نہیں کیا جارہا جس پر مساجد فراہم نہ کرنے کے خلاف مسلم کمیونٹی کے لوگوں کی بڑی تعداد نے احتجاجاً سڑک پر نماز ادا کی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پیرس کے کلیچی ہال عبادت گاہ کے طور پر کرائے پر دینے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے جسے وہاں کے رہائشی 60 ہزار مسلمان ملٹی میڈیا لائیبریری کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ کلیچی سٹی ہال کے حکام کی جانب سے اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مسلم کمیونٹی 2016 میں کھلنے والے ’’نئے اسلامی کلچرل اور عبادت گاہ‘ ‘‘ میں نماز ادا کرسکتے ہیں جو پہلے ہی سیکڑوں مسلمانوں کی جانب سے زیر استعمال ہے
واضح رہے گزشتہ سال فرانس کے میئر نے بھی مسلمانوں کے لیے نفرت کا اظہار کرتے ہوئے بیان دیا تھا کہ شہر میں مسلمان طالب علموں کی تعداد بھی ایک مسئلہ ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید