افغان مہاجرین کی ۱۳ رکنی مرکزی کمیٹی نے اکوڑہ خٹک میں جمعیت علماء اسلام کے سربراہ اور دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا سمیع الحق سے ملاقات کی۔
ملاقات میں کمیٹی کے اہم عہدیداروں نے مہاجرین کی مختلف مشکلات کے حوالے سے مولانا سمیع الحق کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے مہاجرین کی خدمت اور حفاظت میں ہمیشہ انصار کا کردار ادا کیا اور سخت سے سخت وقت میں پاکستانی قوم نے ہماری مدد کی۔ وفد نے مولانا سمیع الحق کو یقین دلایا کہ افغان مہاجرین نے کبھی بھی کسی قسم کی دہشت گردی میں حصہ نہیں لیا اور پاکستانی قوم کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
انہوں نے دہشت گرد تنظیموں کی طرف سے پاکستان میں حالیہ دہشت گردی کی بھرپور مذمت کی اور کہا کہ ایسی کارروائیوں کا اسلام اور جہاد سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے، یہاں ایسی کارروائیاں بیرونی قوتوں کا شاخسانہ ہے۔
وفد نے کہا کہ طور خم بارڈر پر گزشتہ کئی دنوں سے مہاجرین کو مسلسل مسائل در پیش ہیں۔ مختلف مہاجرین کیمپوں میں مسلسل چھاپے پڑ رہے ہیں۔ مدارس سے افغانی طلبا کو اٹھایا جارہا ہے۔ وفد کے سربراہ نے کہا کہ ہم ۱۰۰ فیصد یقین دلاتے ہیں کہ کوئی افغانی مہاجر بھی ایسی کارروائیوں میں ملوث نہیں، حکومت وقت ہماری فریاد سن کر جلد از جلد ہمارے مسائل حل فرمائے۔
مولانا سمیع الحق نے وفد کو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ وہ اس سلسلے میں انفرادی اور اجتماعی طور پر ہم ممکن قدم اٹھائیں گے۔ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ بڑی طاقتیں بھارت، امریکا اور افغان حکومت پاکستان اور افغان عوام کے درمیان اعتماد اور انصار مدینہ جیسے تعلق کو ہرگز برداشت نہیں کرتے، موجودہ دھماکوں کی قابل مذمت لہر اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
روزنامہ اسلام۔ 27/02/2017
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…