شام کے شہر حمص میں خفیہ ادارے کے ہیڈکوارٹر پر 2 خودکش حملوں کے نتیجے میں انٹیلی جنس چیف سمیت 32 افراد ہلاک ہوگئے۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق شام کے مغربی شہر حمص میں کم از کم 6 حملہ آوروں نے فوجی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں شدید دوطرفہ فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے بعد حملہ آوروں میں سے 3 خودکش بمباروں نے عمارت کے اندر گھس کر خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس کے باعث عمارت زمین بوس ہوگئی۔ دہشت گردوں کے حملے میں انٹیلی جنس چیف جنرل حسن دعبول سمیت 32 افراد ہلاک ہوگئے جن میں زیادہ تر تعداد فوجی اہلکاروں کی ہے۔
حمص کے گورنر طلال برزانی کا کہنا ہے کہ فوجی ہیڈکوارٹر میں 3 دھماکوں میں 32 افراد ہلاک اور 20 سے زائد زخمی ہوئے جب کہ عینی شاہد کا کہنا ہے کہ خودکش بمباروں کا ہدف انٹیلی جنس چیف تھے جن کے دفتر میں گھس کر ایک خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑایا۔ مقامی ٹی وی رپورٹ کے مطابق حملے میں ہیڈ آف سیکیورٹی برانچ برگیڈیئر ابراہیم درویش بھی شدید زخمی ہوئے جن کی حالت تشویشناک ہے۔
برطانیہ سے تعلق رکھنے والی انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ 6 حملہ آوروں نے انٹیلی جنس دفتر پر پہلے فائرنگ کی جس کے بعد دونوں جانب سے طویل فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا اور اسی دوران 3 خودکش بمباروں نے خود کو عمارت کے اندر بارودی مواد کےدھماکے سے اڑا لیا۔
واضح رہے کہ شام کے تیسرے سب سے بڑے شہر حمص پر داعش کے قبضے کے بعد مئی 2014 میں حکومتی فورسز نے مکمل طور پر کنٹرول حاصل کرلیا تھا جس کے باوجود داعش کی جانب سے وقفے وقفے سے کارروائیاں کی جاتی رہی ہیں اور اس سے قبل گزشتہ سال 2خودکش حملوں میں 64 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
ایکسپریس نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…