امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ مسلمانوں کے خلاف ایک اورجارحانہ اقدام کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔ انسداد پرتشدد شدت پسندی پروگرام کا نام بدل کرانسداد اسلامی شدت پسندی رکھنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم میں کیے گئے ایک اور وعدے کو پورا کرنے کیلئے انسداد شدت پسندی پروگرام کوصرف اورصرف مسلمانوں کے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ نئی امریکی حکومت کو پروگرام کا نام بدل کر رکھنے سے متعلق بریفنگ دی گئی ہے۔
منصوبے کے تحت پرتشدد نظریات رکھنے والے دیگر تمام گروپوں کے بجائے اسلامی شدت پسند گروپوں کو فوکس کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اس اقدام کے نتیجے میں امریکا میں دہشت گردی، بم دھماکے اور فائرنگ کرنے والے سفید فام شدت پسند گروپوں پر فوکس نہیں کیا جائے گا ۔
اردو ٹائمز
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید