رجل يجمع أغصان أشجار من أنقاض مبنى مدمر في حلب يوم الخميس. تصوير: عبد الرحمن إسماعيل - رويترز.
شام کے شورش زدہ شہر حلب پر سرکاری فوج اور اس کی معاون روسی فوج کے جنگی طیاروں نے تازہ وحشیانہ بمباری کرکے نماز جمعہ کی ادائی کے لیے مسجد میں موجود نمازیوں پر بم گرادیے جس کے نتیجے میں کم سے کم 50 شہری شہید اور دسیوں زخمی ہوگئے۔ بمباری کے نتیجے میں تقاد قصبے میں واقع جامع مسجد ملبے کا ڈھیر بن گئی ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق انسانی حقوق کے کارکنوں کی طرف سے فراہم کردہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ جمعہ کے روز حلب میں تقاد کے مقام پر روسی اور شامی فوج کے بمبار طیاروں نے ایک جامع مسجد پر اس وقت بم گرائے جب وہاں پر سیکڑوں شہری نماز جمعہ ادا کررہے تھے۔
ادھر شام سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جمعرات کے روز چھن جانے والے تمام مقامات انقلابی فورسز نے سرکاری فوج سے دوبارہ واپس لے لیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق جمعرات کو شامی فوج نے حلب میں مساکن ھنانون، پوسٹ آفیس کالونی، جامع مسجد عمر بن الخطاب اور کئی دوسری اہم عمارتوں پر قبضہ کرلیا تھا تاہم گذشتہ روز باغیوں نے دوبارہ یہ جگہیں سرکاری فوج سے چھین لی ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار