فلکی طبیعیات کے لیے استعمال ہونے والی کیمرہ ٹیکنالوجی کو برطانیہ میں فجر کی نماز کے اوقات کے تعین کے لیے استعمال کیا جانے لگا ہے تاکہ ملک بھر میں ایک وقت میں نماز کی ادائیگی ہوسکے۔
نماز فجر سورج طلوع ہونے سے پہلے پڑھی جاتی ہے مگر اس حوالے سے لوگ مختلف اوقات کا تعین کرتے ہیں جس کے نتیجے میں مساجد میں وقت مختلف ہوسکتا ہے چاہے وہ ایک دوسرے کے قریب ہی کیوں نہ ہوں۔
برطانوی روزنامے دی ٹائمز کے مطابق اوپن فجر پراجیکٹ نامی منصوبے کے تحت اس جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جارہا ہے۔
ڈاکٹر شاہد میر علی اس منصوبے کے روح رواں ہیں جو فجر کی نماز کے صحیح وقت کے لیے اس ٹیکنالوجی کا استعمال مختلف مساجد میں کررہے ہیں جسے خلاء باز آسمانوں سے ڈیٹا اکھٹا کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
اس کے لیے ایسے لائٹ سینسیٹو کیمرے کو استعمال کیا جارہا ہے جو 360 ڈگری تصاویر لینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پروجیکٹ کے تحت اس کیمرے کو ایک چھت پر نصب کیا گیا جس نے ایک سال کے دوران علی الصبح آسمان کی 25 ہزار تصاویر لیں۔
پھر محققین اور مذہبی علماء نے ان تصاویر کا تجزیہ کرکے برمنگھم کے علاقے میں ڈیڑھ لاکھ مسلمانوں کے لیے موجود 170 مساجد میں نمازوں کے نظام الاوقات کا تعین کیا۔
اس پروجیکٹ کی تفصیلات آن لائن شائع کی گئیں اور اب اس پر لندن سمیت پیٹر بورف وغیرہ میں کام کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی جارہی ہے۔
ڈان نیوز
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…