امریکی ریاست شمالی کیرولینا میں پاکستانی نژاد امریکی شہری کے 7 سالہ بچے کو مسلمان ہونے پر اسکول بس میں ساتھی بچوں نے تشدد کا نشانا بنا ڈالا۔
مغرب میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے تشدد کے واقعات میں کمی آنے کے بجائے مزید اضافہ ہوتا جارہا ہے، کبھی کسی کو مسلمان ہونے پر طیارے سے اتاردیا جاتا ہے تو کبھی کسی کو اسکارف پہنے پر تنقید کا نشانا بنایا جاتا ہے، صرف یہی نہیں عدم برداشت اس حد تک جاپہنچی ہے کہ مسجدوں پر بھی حملے کے واقعات دیکھنے میں آتے ہیں۔ ایسا ہی واقعہ امریکی ریاست شمالی کیرولینا میں پیش آیا جہاں 7 سالہ بچے کو اسکول کی بس میں دیگر بچوں نے پاکستانی اور مسلمان ہونے پر تشدد کا نشانا بنایا۔
7 سالہ عبدالعثمانی جو شمالی کیرولینا کے اسکول میں زیر تعلیم ہے جب کہ والد ذیشان الحسن عثمانی کا کہنا تھا کہ اسکول سے گھر واپسی پر اسکول وین میں ان کے بیٹے کو دوسرے بچوں نے تشدد کا نشانا بنایا، اسکول بس میں موجود 6 سے 7 بچوں نے اس کے چہرے پر مکے مارے اور ہاتھ بھی مروڑ دیا جس کے باعث ان کے بچے کے ہاتھ میں موچ آگئی ہے۔
دوسری جانب اسکول انتظامیہ کے مطابق واقعہ کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں جب کہ اسکول پرنسپل کا کہنا ہے کہ انہوں نے وین میں موجود تمام بچوں کا انٹرویو کیا ہے لیکن بس ڈرائیور سمیت کسی بھی بچے نے اس طرح کے کسی بھی واقعے کی تصدیق نہیں کی ہے۔
بچے کے والد زیشان الحسن پاکستانی ہیں جو کہ امریکا میں سافٹ وئیر کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں، زیشان الحسن کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی ان کی فیملی کو پڑوسیوں کی جانب سے مسلمان ہونے پر ہراساں کیا گیا تھا جب کہ ان کے ایک بیٹے کو دہشت گرد بھی کہا جاتا رہا۔
ایکسپریس نیوز
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…