Categories: بيانات

حضرت حسینؓ آمریت و ظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے

ایران کے جنوب مشرقی صوبہ سیستان بلوچستان کے صدرمقام زاہدان میں ہزاروں فرزندانِ توحید سے خطاب کرتے ہوئے سات اکتوبر دوہزار سولہ کے خطبہ جمعہ میں مولانا عبدالحمید نے کہا: خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے دور میں تمام صحابہ کرام اور اہل بیت نے مل کر ان حضرات کی حمایت کی اور جہاد کے ذریعے اسلامی شریعت کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
انہوں نے مزید کہا: سیدنا علی کی شہادت کے بعد خلافت کی ذمہ داری سیدنا حسن رضی اللہ عنہما کے سپرد ہوئی۔ ہر شخص اپنے دور کے حالات کو بہتر سمجھتاہے، اسی لیے حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے حکمت و مصلحت کو اسی میں دیکھا کہ صلح کرکے مسلمانوں کی امارت کی ذمہ داری حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے کردیں تاکہ مسلمانوں میں خونریزی نہ ہوجائے۔
مولانا عبدالحمید نے یزید کے خلاف حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے قیام کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد جب حکومت یزید کے ہاتھوں میں آئی، بہت سارے صحابہ کرامؓ نے جو اس وقت حیات تھے، یزید سے بیعت نہیں کی اور انہیں اس مقام کے لیے نااہل سمجھا۔
بات آگے بڑھاتے ہوئے خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے جب محسوس فرمایا دین خطرے میں ہے اور انصاف و عدل کا جنازہ نکلنے والا ہے، انہوں نے دین سے دفاع اور انصاف کے نفاذ کے لیے قیام فرمایا تاکہ آمریت اور قوت طلبی سے مقابلہ کیا جائے۔ آپؓ کے مقاصد اور محرک عوامل میں ہرگز طاقت حاصل کرکے دنیوی جاہ و مقام پر فائز ہونا شامل نہیں تھے۔ بلکہ ان کا مقصد دینی و خدائی تھا؛ آپؓ نبی کریم ﷺ اور حضرات علی و فاطمہ رضی اللہ عنہما کے مکتب کے تربیت یافتہ شاگرد تھے۔
انہوں نے حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو تمام مسلمانوں کے لیے اسوہ یاد کرتے ہوئے کہا: تمام مسلمان بشمول شیعہ و سنی حضرت حسین ؓ کو اپنے لیے مثالی اور نمونہ سمجھتے ہیں۔ اہل بیت کی محبت تمام مسلمانوں کے دلوں میں ہے۔ صحابہ کرام بھی اہل بیت رضی اللہ عنہم کے لیے خاص احترام کرتے تھے۔
مولانا عبدالحمید نے مزید کہا:رسول اللہ ﷺ سمیت صحابہ کرام اور اہل بیت ؓ سے محبت کا دعوی اس وقت موثر اور قابل قبول ہوگا جب ہم ان کی سیرت اور تعلیمات کی پیروی کریں گے۔ اگر ہم ان بزرگوں سے محبت کے بلندوبالا دعوے کریں لیکن عمل میں نماز نہ پڑھیں، زکات ادا نہ کریں اور شرعی احکام سے گریز کریں، اس کا مطلب یہی ہے ہمارا دعوی سچا نہیں ہے۔

اہل سنت کی فقہ و عقیدہ میں مجلس عزا بپا کرنا جائز نہیں ہے
ایرانی اہل سنت کی سرکردہ دینی شخصیت نے مجلس عزا اور جلوس نکالنے کے حوالے سے اہل سنت و الجماعت کا فقہی نقطہ نظر واضح کرتے ہوئے کہا: بعض علاقوں میں جہاں اہل سنت اقلیت میں ہیں، کچھ شیعہ حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ سنی مسلمانوں کو اہل بیت سے محبت نہیں ہے۔ حالاںکہ اہل سنت تمام صحابہ و اہل بیت ؓ سے والہانہ محبت رکھتے ہیں۔ ان سے محبت اہل سنت کے عقیدے کا حصہ ہے۔ اہل سنت کی معتبر کتابوں میں اہل بیت کے فضائل میں متعدد روایات موجود ہیں۔
انہوں نے مزیدکہا: جو کچھ اہل بیت اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہوا، اس حوالے سے ہم لاپرواہ نہیں ہیں، لیکن قرآن و سنت سے ہر مسلک کا فہم اور استنباط مختلف ہے۔ اہل سنت کا عقیدہ قرآن و سنت کی رو سے یہی ہے کہ بوقت مصیبت انسان کو صبر سے کام لینا چاہیے اور ان بزرگوں کی سیرت اور حالات کا تذکرہ کرنا چاہیے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے کہا: اگر اہل سنت مجلس عزا نہیں لیتے اور عزاداری کے لیے جلوس نہیں نکالتے، اس کا مطلب لاپرواہی نہیں ہے، بلکہ اہل سنت کی فقہ ان کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ ہمارا عقیدہ قرآن و سنت کی رو سے یہی ہے کہ مجلس عزا منعقد نہ کریں۔ مسلم مسالک میں تمام مشترکہ عقائد کے ساتھ ساتھ کچھ فرق بھی ہے۔
ممتاز عالم دین نے اپنے خطاب کے آخر میں زور دیتے ہوئے کہا: تمام مسلمانوں کو ہماری نصیحت یہی ہے کہ ایک دوسرے کا احترام کریں اور مقدسات کی توہین سے پرہیز کریں۔ موجودہ حالات میں مسلمانوں کا اتحاد بہت ہی اہم ہے۔ قومی، مذہبی اور خاندانی تنازعات سے قومیں تباہ ہوجاتی ہیں جس طرح حدیث شریف میںآیا ہے کہ اختلافات کی وجہ سے پہلی قومیں تباہ و ہلاک ہوئیں۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ کا دعوی جھوٹا ہے

اہل سنت ایران کے ممتاز عالم دین نے شامی بچوں اور خواتین سمیت نہتے شہریوں کے قتل عام پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس حوالے سے روس سمیت تمام طاقتوں کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا ان کا مقصد دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں بلکہ اسرائیل کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
مولانا عبدالحمید نے کہا: مشرق وسطی خاص کر مسلم ممالک میں مسلمان انتہائی سخت اور قابل رحم حالات سے گزرہے رہیں جس پر خون کے آنسو بہانا بھی کم ہے۔ جو مسلمان اپنے ملکوں سے دربدر ہوکر یورپی ممالک میں پناہ گزین ہیں، سخت حالات میں ہیں اور ان کا عقیدہ خطرے میں ہے۔ کچھ مشنریز انہیں عیسائی بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: ایک عرصے سے شامی عوام کو ماڈرن ہتھیاروں سے لیس سامراجی طاقتیں قتل عام کرتی چلی آرہی ہیں۔شام کے شہروں خاص کر حلب میں بہت ہی رقت انگیز مناظر دیکھنے میں آتے ہیں۔ مشرقی و مغربی طاقتیں ’دہشت گردی و انتہاپسندی کے خلاف‘ جنگ کو بہانہ بناکر بچوں اور خواتین سمیت ہزاروں نہتے شہریوں کا قتل عام کررہی ہیں۔
عالمی اتحاد برائے علمائے مسلمین کے رکن نے واضح کرتے ہوئے کہا: دہشت گردی و انتہاپسندی کے خلاف جنگ کے دعویدار ممالک اپنے دعوی میں جھوٹے ہیں؛ ان کا مقصد صرف مسلمانوں میں فرقہ وارانہ اور مذہبی اختلافات کو ہوا دینا ہے تاکہ مسلم ممالک اور قومیں ایک دوسرے سے دست و گریباں ہوجائیں۔ ایک طاقتوںکا مقصد خطے میں اپنی طاقت مستحکم کرکے قابض اسرائیلی ریاست کی حفاظت یقینی بنانا ہے۔ یہ طاقتیں اسلامی بیداری اور ثقافت کا مقابلہ کرکے اپنی بدبودار ثقافتوں کو مسلم ممالک میںشائع کرنا چاہتی ہیں۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے مزیدکہا: جو طاقتیں انتہاپسندی کے خلاف جنگ کا ڈھنڈورا پیٹتی ہیں، ان کا مقصد مشرق وسطی کے مسائل کا حل نکالنا نہیں ہے۔ چوں کہ یہ طاقتیں شروع ہی سے سیاسی طریقوں سے مسائل حل کرانے کی صلاحیت رکھتی تھی لیکن انہوںنے ایسا نہیںکیا۔ اقوام متحدہ اور سکیورٹی کونسل نے مشرق وسطی کے حوالے سے اپنی ناکامی ثابت کردی، اس کی وجہ بھی ان ہی طاقتوں کا اثرو رسوخ ہے۔
ممتاز عالم دین نے آخر میں عوام سے درخواست کی مسلم ممالک کے حالات و مسائل کے حوالے سے لاپرواہ نہ ہوجائیں اور مسلمانوں کے لیے دعا کریں۔

baloch

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago