افغانستان کی حکومت اور گلبدین حکمت یار کی حزب اسلامی کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد ملک کے پہلے امن معاہدہ کے مسودے پر دستخط ہو گئے ہیں۔
حکمت یار کو 2003 میں واشنگٹن کی درخواست پر اقوام متحدہ کی طرف سے ایک عالمی دہشت گرد قرار دے کر بلیک لسٹ کیا گیا تھا۔ امن معاہدہ کے تحت گلبدین حکمت یار کی 20 سالہ جلاوطنی کے بعد افغانستان واپسی کی راہ ہموار ہوگی اور اب ان کو مکمل سیاسی حقوق حاصل ہوںگے۔ علاوہ ازیں امن معاہدہ کے زریعے حزب اسلامی کو اقوام متحدہ کی غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔
معاہدے پر افغان کی اعلی امن کونسل کے سربراہ، احمد گیلانی، قومی سلامتی کے مشیر محمد حنیف اتمر، اور حکمت یار کے نمائندے امین کریم نے دستخط کئے۔ جمعرات کوامن معاہدہ کے مسودہ پر دستخط کی تقریب کوٹیلی ویڑن پر براہ راست نشر کیا گیا۔ تقریب کے دوران حکمت یار کا بیٹا حبیب الرحمٰن حکام کے ساتھ بیٹھا تھا۔
معاہدے کی حتمی منظوری کیلئے اس پر افغان صدر اشرف غنی اور گلبدین کے دستخط ہونا ضروری ہے تاہم اس کے لئے ٹائم ٹیبل کا کوئی اعلان نہیں ہوا۔
اردو ٹائمز
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…