A civilian breathes through an oxygen mask at al-Quds hospital, after a hospital and a civil defence group said a gas, what they believed to be chlorine, was dropped alongside barrel bombs on a neighbourhood of the Syrian city of Aleppo, Syria, early August 11, 2016. REUTERS/Abdalrhman Ismail
شام کے شہر حلب میں شامی باغیوں کے زیر قبضہ علاقے پر مبینہ طور پر کیمیائی حملے کے دوران کے نتیجے میں درجنوں افراد کو سانس لینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
شامی باغیوں کے علاقوں میں کام کرنے والی ایک تنظیم “شامی سول ڈیفنس” کے مطابق شام کی سرکاری فوج کے ہیلی کاپٹرز نے حلب کے علاقے السکری میں کلورین گیس والے بیرل بموں پھینکے ہیں۔
شامی حکومت نے پانچ سال سے جاری اس خانہ جنگی کے دوران ماضی میں بھی کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تردید کرتی آئی ہے۔ مگر ‘سول ڈیفنس’ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پرلکھا ہے کہ اس حملے کے نتیجے میں 80 افراد کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہے۔ اس بیان میں کسی شخص کی موت کی اطلاع نہیں دی گئی۔
برطانیہ میں قائم ‘شامی رصد گاہ برائے انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ طبی ذرائع کے مطابق علاقے میں سانس لینے میں دشواری کے 70 کیسز سامنے آئے ہیں۔
اقوام متحدہ اور کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کے لئے کام کرنے والے بین الاقوامی ادارے کی ایک تحقیقات میں بھی سامنے آیا تھا کہ 2014 اور 2015ء میں شامی حکومت نے دو مختلف واقعات میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا تھا۔
شامی تنازعے کے دوران ڈھائی لاکھ سے زائد لوگ اپنی جانیں گنوا چکے ہیں جبکہ ایک کروڑ دس لاکھ افراد اپنے گھروں سے بے گھر ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…