Categories: بيانات

ادارہ مملکت میں اہل سنت کو نظرانداز کرنا حقارت آمیز ہے

اہل سنت ایران کے ممتاز دینی رہ نما نے ادارہ مملکت میں اہل سنت کی مشارکت اور ان کی مذہبی آزادی یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا: سنیوں کو نظرانداز کرنا ہمارے لیے حقارت آمیز ہے۔
’سنی آن لائن‘ کی رپورٹ کے مطابق، مولانا عبدالحمید نے چھبیس اگست دوہزار سولہ کو زاہدان میں خطبہ جمعہ کے ایک حصے میں اہل سنت کے ’دو اہم مطالبات‘ اور پریشانیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: اہل سنت ایران کی رضامندی اس وقت حاصل ہوسکتی ہے جب ان کا احترام محفوظ ہو۔ اگرہمیں وفاقی، صوبائی اور ضلعوں کی سطح تک کے محکموں میں مشارکت نہ دی جائے، یہ ہمارے لیے ذلت آمیز ہوگا۔ بعض اضلاع میں جہاں اہل سنت اکثریت میں ہیں، دیکھاجاتاہے کہ ایک محکمے میں تین سو ملازمین سے صرف دس پندرہ کا تعلق سنی برادری سے ہے۔ یہ ہمارے لیے مجروح کن ہے۔
انہوں نے مزیدکہا: اہل سنت کو ملازمت دینے کے حوالے سے کوئی بہانہ نہیں ہے۔ حکام کو چاہیے اس مسئلے کے حل کے لیے چارہ جوئی کریں۔ خاص توجہ کی ضرورت ہے۔ اس بارے میں امتیازی سلوک کا خاتمہ ہونا چاہیے۔

پورے ایران میں سنی برادری کو مذہبی آزادی حاصل ہونی چاہیے
خطیب اہل سنت زاہدان نے سنی برادری کی دوسری پریشانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: آئین جو آزادیاں ہمارے لیے مقرر ہیں، ہم صرف ان ہی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ آزادی پورے ملک میں نافذ ہونی چاہیے۔ گروہی و ذاتی مقاصد کی خاطر امتیازی رویہ ہماری برادری کے لیے بالکل ناقابل قبول ہے۔
تہران سمیت بعض بڑے شہروں میں سنی نمازخانوں کے لیے پیش آنے والی پابندیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران کی اہم ذمہ داریوں میں جس کی تصریح قرآن میں آئی ہے، اقامہ نماز ہے۔ ہر شہری جہاں بھی چاہے، شیعہ ہو یا سنی ، نماز پڑھ سکتاہے اور اس کے لیے اسباب مہیا ہونا چاہیے۔ حتی کہ یہودی و عیسائی بھی اپنے مذہب کے مطابق عبادت کرسکتے ہیں اور انہیں نہیں روکاجاسکتا۔
مولانا عبدالحمید نے زور دیتے ہوئے کہا: ہمیں یقین ہے اگر نمازیوں کے لیے مسائل کھڑے کیے جائیں، اس سے ناراضگی پیدا ہوجائے گی۔ ہمارے دشمن ایسے مواقع کی تلاش میں ہیں تاکہ دشمنی پیدا کرسکیں۔ ملک کے بڑوں کو چاہیے چھوٹے درجے کے عہدیداروں کو روکیں جو دوراندیشی سے دور ہیں اور لوگوں کے لیے پریشانیاں پیدا کرتے ہیں۔ نمازخانوں کو بند نہیں کرانا چاہیے اور نماز کے حوالے سے سختی کرنا ناقابل قبول ہے۔
ممتاز عالم دین نے کہا: ہمیں توقع ہے حکومت اس حوالے سے لاتعلق نہ رہے۔ اعلی حکام اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور عہدیداروں کو اپنے حال میں مت چھوڑیں کہ جو ان کی مرضی ہو کر جائیں۔ مذہبی آزادی بنیادی حقوق اور آزادیوں میں شمار ہوتی ہے۔سب کو قانون پر عمل پیرا ہو کر اس کا احترام کرنا چاہیے۔

ہم ایران کے وارث ہیں
صدر دارالعلوم زاہدان نے ایرانی اہل سنت کی ایرانی قومیت پر زور دیتے ہوئے کہا: مذہبی آزادی ہر ایرانی کا حق ہے اور ہم بھی ایرانی ہی ہیں۔ سنی شہری چاہے فارسی ہوں یا بلوچ، عرب ہوں یا کرد، ترک ہوں یا ترکمن سب بنیاد ہی سے ایرانی ہیں۔ ہم ایران کے وارث ہیں۔ تہران ہم سب کا ہے جس طرح پورا ایران تمام ایرانیوں کا ہے۔
انہوں نے مزیدکہا: تہران میں ہمیں مذہبی آزادی حاصل ہونی چاہیے؛ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ تم بلوچ ہو تہران میں کیا کرتے ہو! ہم ہرگز اس حوالے سے سمجھوتہ کرکے پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے کہا: ہم سب ایرانی اقوام ایک ہی خاندان کے ارکان کی طرح ہیں۔ خوشی غم میں ساتھ رہے ہیں۔ ہم حق پر کھڑے ہیں اور ہم سے روگردانی سمجھ سے بالاتر ہے۔ یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ ایک اسلامی ملک میں کچھ لوگ ہماری نماز تک برداشت نہیں کرسکتے۔
انہوں نے کہا: مرشد اعلی اور صدر مملکت جنہیں تمام ایرانی قومیتوں بشمول اہل سنت نے ووٹ دے کر کامیاب کرایا، سے درخواست یہی ہے کہ اہل سنت پر ذاتی طورپر توجہ دیں۔ ہمیں دوسروں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑیں۔ اس طرح کے حساس مسائل کو وزرا کے لیے بھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔
مولانا عبدالحمید نے مزیدکہا: ہمیں اپنے ملک میں کسی پریشانی کے بغیر رہنے دیا جائے۔اتحاد کی حفاظت ہونی چاہیے۔ایسا نہ ہو کہ دشمن کے سامنے ہم اختلاف و تشتت سے دوچار ہوجائیں۔ انتہاپسند عناصر جو حکومتی ڈھانچے میں شامل ہیں، انہیں روک کر کنٹرول کرنا چاہیے۔

سیستان بلوچستان میں بے روزگاری عروج پر ہے
خطیب اہل سنت نے اپنے خطاب کے ایک حصے میں صوبہ سیستان بلوچستان کے بعض مسائل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: سیستان بلوچستان میں غربت و بے روزگاری عروج پر ہیں اور مسائل بہت زیادہ ہیں۔ ایک طرف سے خشکسالی نے لوگوں کا جینا دوبھر کیا ہے تو دوسری طرف معاشی مشکلات نے عوام کو دھر لیاہے۔ حکومت اس سلسلے میں مزید اقدامات کرے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے صدر روحانی کو ان کے بعض وعدوں کی یاددہانی کرتے ہوئے کہا: اہل سنت کے مستعد اور قابل افراد کو روزگار فراہم کرنے اور ملک کے ادارے میں ان کی خدمات حاصل کرنے میں بہت سارے کام رہ گئے ہیں۔ ایک دو صوبے کے علاوہ دیگر صوبوں اور اضلاع میں جہاں اکثر سنی باشندے آباد ہیں، سنیوں کو اب بھی نظرانداز کیا جاتاہے۔ سنی قومیتیوں کی توقعات ابھی تک جامہ عمل کے انتظار میں ہیں۔
انہوں نے مزیدکہا: بعض صوبوں کوئی بھی تبدیلی نظر نہیں آتی ہے۔ اہل سنت کی مشارکت کے حوالے سے کچھ بھی نہیں کیا گیا۔سیستان کے علاقے میں جہاں پانچ اضلاع موجود ہیں، اہل سنت اور اہل تشیع کی آبادی قریب قریب ہے۔ ان کے درمیان بھائی چارہ حاکم ہے اور رشتہ داری بھی ہے۔ لیکن سنیوں کو پوری طرح نظرانداز کیا جارہاہے۔ اس حوالے سے ہمیں سخت شکوہ ہے۔
مولانا عبدالحمید نے آخر میں حکومت کے ذمہ داروں کو مخاطب کرکے کہا حکومت کے دورانیہ سے ایک سال باقی ہے؛ کم ازکم اس سال میں شروع میں کیے گئے وعدوں پر عمل کیا جائے۔

baloch

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago