In this Friday, May 27, 2016 photo, Taliban fighters stand guard as senior leader of a breakaway faction of the Taliban Mullah Abdul Manan Niazi, not pictured, delivers a speech to his fighters, in Shindand district of Herat province, Afghanistan. Niazi said Sunday, May 29, 2016 he was willing to hold peace talks with the Afghan government but would demand the imposition of Islamic law and the departure of all foreign forces. (AP Photos/Allauddin Khan)
افغانستان میں طالبان مزاحمت کاروں نے مشرقی صوبے پکتیا میں واقع ایک ضلع پر قبضہ کر لیا ہے۔ان کے حملے میں متعدد فوجی اور پولیس اہلکار ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں جبکہ ان کے قبضے کے بعد پاکستان کی جانب جانے والی ایک اہم شاہراہ کی بندش کا بھی خطرہ ہے۔
صوبے پکتیا میں واقع ضلع جانی خیل کے گورنر عبدالرحمان سولمال نے بتایا ہے کہ طالبان مزاحمت کاروں اور افغان فورسز کے درمیان رات بھر خونریز لڑائی ہوتی رہی تھی جس کے بعد سرکاری فورسز ضلع سے پسپا ہوگئی ہیں۔جانی خیل آٹھ اضلاع کے سنگم پر واقع ہے۔ اسی ضلع سے پکتیا کی سرحد خوست اور پاکستان کے ساتھ ملتی ہے۔
انھوں نے ہفتے کے روز برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کو بتایا ہے کہ ”ہمارے ضلع کا طالبان نے گذشتہ پانچ روز سے محاصرہ کررکھا تھا۔ان میں سے سیکڑوں جنگجوؤں نے رات ہماری چوکیوں پر حملے کیے تھے”۔
انھوں نے مزید کہا ہے کہ ”اگر ہم نے جلد اس ضلع کا قبضہ واپس نہ لیا تو طالبان ایک صوبے سے دوسرے صوبے تک بآسانی پھیل سکتے ہیں اور کم سے کم تین صوبوں کی سکیورٹی خطرات سے دوچار ہوجائے گی”۔
ضلعی گورنر کے مطابق رات بھر لڑائی میں بیس سے زیادہ فوجی اور پولیس اہلکار ہلاک اور بیس زخمی ہوگئے ہیں جبکہ دو سو طالبان مزاحمت کار مارے گئے ہیں لیکن طالبان کی ان ہلاکتوں کی تصدیق ممکن نہیں ہے۔
دوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں جانی خیل میں دسیوں افغان فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ بکتر بند گاڑیوں ،ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سمیت بھاری مقدارمِیں آلات اور گولہ بارود قبضے میں لے لیا گیا ہے۔
جانی خیل میں یہ کامیاب حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے کہ جب افغانستان کے دوسرے صوبوں میں بھی افغان فورسز اور طالبان کے درمیان خونریز لڑائی ہورہی ہے۔خاص طور پر صوبے ہلمند میں شدید لڑائی جاری ہے۔اس صوبے کے دفاع کو مضًوط بنانے کے لیے امریکی فوجی مشیروں کو تعینات کیا جارہا ہے۔
امریکی کانگریس کے تحت ایک ادارے خصوصی انسپکٹر جنرل برائے افغانستان تعمیر نو (سیگار) کے مطابق جولائی میں افغان فورسز کا ملک کے 66 فی صد علاقے پر کنٹرول رہ گیا تھا جبکہ اس سال کے اوائل میں اس کا 70 فی صد علاقے پر کنٹرول تھا۔سیگار کے مطابق افغانستان کے 407 اضلاع میں سے 36 مکمل طور پر طالبان مزاحمت کاروں کے قبضے میں ہیں یا ان کے زیراثر ہیں جبکہ 104 اضلاع ”خطرے” میں ہیں۔
العربیہ
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…