Categories: عالم اسلام

افغانستان : طالبان مزاحمت کاروں کا ایک مشرقی ضلع پر قبضہ

افغانستان میں طالبان مزاحمت کاروں نے مشرقی صوبے پکتیا میں واقع ایک ضلع پر قبضہ کر لیا ہے۔ان کے حملے میں متعدد فوجی اور پولیس اہلکار ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں جبکہ ان کے قبضے کے بعد پاکستان کی جانب جانے والی ایک اہم شاہراہ کی بندش کا بھی خطرہ ہے۔
صوبے پکتیا میں واقع ضلع جانی خیل کے گورنر عبدالرحمان سولمال نے بتایا ہے کہ طالبان مزاحمت کاروں اور افغان فورسز کے درمیان رات بھر خونریز لڑائی ہوتی رہی تھی جس کے بعد سرکاری فورسز ضلع سے پسپا ہوگئی ہیں۔جانی خیل آٹھ اضلاع کے سنگم پر واقع ہے۔ اسی ضلع سے پکتیا کی سرحد خوست اور پاکستان کے ساتھ ملتی ہے۔
انھوں نے ہفتے کے روز برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کو بتایا ہے کہ ”ہمارے ضلع کا طالبان نے گذشتہ پانچ روز سے محاصرہ کررکھا تھا۔ان میں سے سیکڑوں جنگجوؤں نے رات ہماری چوکیوں پر حملے کیے تھے”۔
انھوں نے مزید کہا ہے کہ ”اگر ہم نے جلد اس ضلع کا قبضہ واپس نہ لیا تو طالبان ایک صوبے سے دوسرے صوبے تک بآسانی پھیل سکتے ہیں اور کم سے کم تین صوبوں کی سکیورٹی خطرات سے دوچار ہوجائے گی”۔
ضلعی گورنر کے مطابق رات بھر لڑائی میں بیس سے زیادہ فوجی اور پولیس اہلکار ہلاک اور بیس زخمی ہوگئے ہیں جبکہ دو سو طالبان مزاحمت کار مارے گئے ہیں لیکن طالبان کی ان ہلاکتوں کی تصدیق ممکن نہیں ہے۔
دوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں جانی خیل میں دسیوں افغان فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ بکتر بند گاڑیوں ،ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سمیت بھاری مقدارمِیں آلات اور گولہ بارود قبضے میں لے لیا گیا ہے۔
جانی خیل میں یہ کامیاب حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے کہ جب افغانستان کے دوسرے صوبوں میں بھی افغان فورسز اور طالبان کے درمیان خونریز لڑائی ہورہی ہے۔خاص طور پر صوبے ہلمند میں شدید لڑائی جاری ہے۔اس صوبے کے دفاع کو مضًوط بنانے کے لیے امریکی فوجی مشیروں کو تعینات کیا جارہا ہے۔
امریکی کانگریس کے تحت ایک ادارے خصوصی انسپکٹر جنرل برائے افغانستان تعمیر نو (سیگار) کے مطابق جولائی میں افغان فورسز کا ملک کے 66 فی صد علاقے پر کنٹرول رہ گیا تھا جبکہ اس سال کے اوائل میں اس کا 70 فی صد علاقے پر کنٹرول تھا۔سیگار کے مطابق افغانستان کے 407 اضلاع میں سے 36 مکمل طور پر طالبان مزاحمت کاروں کے قبضے میں ہیں یا ان کے زیراثر ہیں جبکہ 104 اضلاع ”خطرے” میں ہیں۔

العربیہ

baloch

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago