پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پیر کو ہونے والے دھماکے میں 71 ہلاکتوں کے بعد صوبے میں تین روزہ سوگ منایا جا رہا ہے۔
سول ہسپتال کے حکام کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 71گئی ہے اور 110 سے زیادہ زخمی ہوئے جبکہ شدید زخمی ہونے والے 28 افراد کو خصوصی جہاز کے ذریعے کراچی منتقل کیا گیا ہے۔
نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے عہدیدار عطااللہ لانگو نے بتایا ہے کہ دھماکے میں ہلاک ہونے والے وکلا کی تعداد 40 سے زائد ہے۔
دھماکے پر بلوچستان میں تین روزہ سوگ منایا جا رہا ہے جبکہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سات روزہ سوگ منا رہی ہے۔
دھماکے کے خلاف انجمن تاجران کی کال پر کوئٹہ شہر کے کاروباری مراکز میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جا رہی ہے اور شہر میں ٹریفک معمول سے کم ہے۔
اس کے علاوہ شہر میں تمام تعلیمی ادارے بند ہیں اور کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں وکلاءنے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا ہے۔ ملک کے دیگر شہروں میں بھی وکلا عدالتوں کارروائیوں کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔
دوسری جانب ہلاک شدگان کی تدفین ان کے آبائی علاقوں میں کی جا رہی ہے۔
خیال رہے کہ جس وقت دھماکہ ہوا تو وہاں بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر بلال انور کاسی کی میت لائی گئی تھی جنھیں پیر کی صبح ہی کوئٹہ کے علاقے منوں جان روڈ پر نامعلوم افراد نے گھر سے عدالت جاتے ہوئے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔
ہلاک ہونے والوں میں نجی ٹی وی چینلز کے دو کیمرہ مین شامل ہیں۔
کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے علیحدگی اختیار کرنے والے گروپ جماعت الاحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان نے میڈیا سے رابط کر کے کوئٹہ میں وکیل رہنما کی ہلاکت اور بعد میں سول ہسپتال میں دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
دھماکے کے بعد وزیراعظم نواز شریف اور فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کوئٹہ میں زخمیوں کی عیادت کی۔
وزیراعظم نواز شریف نے گورنر ہاؤس میں اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے دشمن چین پاک اقتصادی راہداری کے پیچھے لگے ہوئے ہیں اور پاکستان بین الاقوامی دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرےگا۔
اس سے پہلے جنرل راحیل نے کوئٹہ میں ایک اجلاس کے دوران خفیہ ایجنسیوں کو ملک بھر میں شدت پسندوں کے خلاف کومبنگ آپریشن شروع کرنے کا حکم دیا۔
بلوچستان کے وزیرِ داخلہ سرفراز بگٹی نے سرکاری ٹی وی کو بتایا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ خودکش دھماکہ تھا۔
بم ڈسپوزل سکواڈ کا کہنا ہے کہ اس دھماکے میں اندازاً آٹھ کلو دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔
خیال رہے کہ اپریل سنہ 2010 میں بھی کوئٹہ کے سول ہسپتال میں اسی مقام پر بھی بلوچستان شیعہ کانفرنس کے صدر کے صاحبزادے کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد وہاں جمع ہونے والے افراد پر خودکش حملہ ہوا تھا جس میں سماء ٹی وی کے کیمرہ مین ملک عارف اور کوئٹہ پولیس کے ڈی ایس پی نثار کاظمی سمیت 10 افراد مارے گئے تھے۔
بی بی سی اردو
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…