پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ہونے والے دھماکے میں کم از کم 53 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔
یہ دھماکہ پیر کی صبح شہر کے سول ہسپتال کے شعبۂ حادثات کے داخلی دروازے کے باہر ہوا۔
جس وقت دھماکہ ہوا تو وہاں بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر بلال انور کاسی کی میت لائی گئی تھی جو پیر کی صبح ہی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے تھے۔
صوبائی حکومت کے ترجمان کے مطابق دھماکے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں وکلا اور میڈیا کے نمائندے بھی شامل ہیں۔
کوئٹہ سے بی بی سی کے نمائندے محمد کاظم کے مطابق ہلاک شدگان میں سے 18 وکلا ہیں جن میں بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر باز محمد کاکڑ بھی شامل ہیں۔
ہلاک ہونے والوں میں نجی ٹی وی چینل آج نیوز کے کیمرہ مین شہزاد یحییٰ بھی شامل ہیں۔
بلوچستان کے وزیرِ داخلہ سرفراز بگٹی نے بی بی سی کے خدائے نور ناصر سے بات کرتے ہوئے 53 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
انھوں نے سرکاری ٹی وی کو یہ بھی بتایا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ خودکش دھماکہ تھا۔
سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان ثنا اللہ زہری نے اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور 24 گھنٹے میں رپورٹ طلب کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات کے دوران اس بات کا جائزہ بھی لیا جائے گا کہ جب ہسپتال میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے تو وہاں سکیورٹی کی صورتحال کیسی تھی۔
وزیرِ داخلہ نے کہا کہ اگر اس معاملے میں کوئی بھی غفلت پائی گئی تو متعلقہ افراد سے سختی سے نمٹا جائے گا۔
نامہ نگار کے مطابق صوبائی وزیرِ صحت رحمت صالح بلوچ کا کہنا ہے کہ دھماکے میں 50 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں جنھیں ایف سی ہسپتال، بی ایم سی اور سی ایم ایچ منتقل کر دیا گیا ہے۔
دھماکے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور شہر کے تمام ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔
نامہ نگار کے مطابق بلال انور کاسی کی میت کو سول ہسپتال پہنچایا گیا تھا اور وکلا کی بڑی تعداد اس وقت وہاں موجود تھی کہ دھماکہ ہو گیا۔
بلال انور کاسی کو کوئٹہ کے علاقے منوں جان روڈ پر نامعلوم افراد نے گھر سے عدالت جاتے ہوئے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔
وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف نے کوئٹہ میں دھماکے کی سخت مذمت کی ہے جبکہ بلوچستان کی صوبائی حکومت نے اس واقعے پر تین روز جبکہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے سات روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
خیال رہے کہ اپریل سنہ 2010 میں بھی کوئٹہ کے سول ہسپتال میں اسی مقام پر بھی بلوچستان شیعہ کانفرنس کے صدر کے صاحبزادے کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد وہاں جمع ہونے والے افراد پر خودکش حملہ ہوا تھا جس میں سماء ٹی وی کے کیمرہ مین ملک عارف اور کوئٹہ پولیس کے ڈی ایس پی نثار کاظمی سمیت 10 افراد مارے گئے تھے۔
بی بی سی اردو
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…