Categories: عالم اسلام

9 ماہ میں 2320 فلسطینی بچوں کو گرفتار کر کے اذیتیں دی گئی

فلسطین کے محکمہ امور اسیران کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ برس اکتوبر کے بعد سے جولائی 2016ء کے آخر تک اسرائیلی فوج نے وحشیانہ کریک ڈاؤن میں 2320 فلسطینی بچوں کو گرفتار کر کے حراستی مراکز میں اذیتوں کا نشانہ بنایا۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی محکمہ امور اسیران کے عہدیدارعبدالناصر فروانہ نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ گذشتہ برس یکم اکتوبر کے بعد سے شروع ہونے والی تحریک انتفاضہ القدس کے دوران کم سے کم 2320 فلسطینی گرفتار کیے گئے اور انہیں حراستی مراکز میں اذیتیں دی گئیں۔

ناصر فروانہ نے رام اللہ میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران رپورٹ پیش کی، جس میں بتایا گیا کہ تحریک انتاضہ کو دبانے کے لیے صہیونی فوج نے فلسطینی بچوں کی اندھا دھند گرفتاریاں کی گئیں۔ گرفتار کیے گئے بچوں میں سے بعض کی عمریں 11 سال تھیں۔ اس وقت بھی 11 سے 18 سال کے 400 بچے صہیونی عقوبت خانوں میں پابند سلاسل ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 2011ء کے بعد فلسطینی بچوں کی گرفتاریوں میں گذشتہ برس اس وقت غیرمعمولی اضافہ ہوا جب فلسطینی شہریوں نے قبلہ اول کے دفاع اور القدس کے تحفظ کے لیے ’تحریک انتفاضہ القدس‘ کا آغاز کیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فلسطینی شہریوں کو گرفتار کرنے اور انہیں جیلوں میں تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا اصل مقصد تحریک انتفاضہ کو کچلنا تھا۔ دوران حراست فلسطینی بچوں کو شرمناک نوعیت کے وحشیانہ سلوک کو سامنا کرنا پڑا۔ انہیں جسمانی اور نفسیاتی اذیتیں دی گئیں اور یہ بھیانک سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک جانب اسرائیلی فوج نے بڑی تعداد میں فلسطینی بچوں کو گرفتار کر کے جیلوں میں ڈالا اور دوری جانب اسرائیلی پارلیمنٹ اور عدلیہ نے فلسطینی بچوں کے خلاف نسل پرستانہ قوانین وضع کرنے اور ان کے نفاذ کی سازشیں بھی تیز کر دیں۔

خیال رہے کہ اس وقت اسرائیل کی جیلوں میں 7 ہزار سے زاید فلسطینی پابند سلاسل ہیں۔ ان فلسطینیوں کو 25 حراستی مراکز میں ڈالا گیا ہے۔ ان میں سے 1500 اسیران کو متعدد نوعیت کے جان لیوا امراض کا سامنا ہے۔ 750 فلسطینی انتظامی حراست کے تحت پابند سلاسل ہیں۔ محروسین میں 400 بچے اور 70 خواتین ہیں۔ ان میں 40 اسیران 20 سال سے زاید عرصہ اسرائیلی جیلوں میں قید کاٹ چکے ہیں۔

مرکز اطلاعات فلسطین

baloch

Recent Posts

اسلامی ممالک کا ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہونے میں کوئی خیر یا فائدہ نہیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…

1 hour ago

“عدل و انصاف کی ترویج”، “متحرک معیشت”، اور “عوام کی رضامندی” حکومتوں کی بقا کا راستہ ہیں

"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…

1 week ago

حقوق اللہ اور حقوق الناس کی پامالی تقویٰ اور اعتدال کے راستے سے نکلنے کے مترادف ہے

زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…

2 weeks ago

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

3 weeks ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

3 weeks ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

4 weeks ago