بھارت میں گائے ذبح کرنے اور اس کا گوشت کھانے کے الزام میں مسلمانوں پر تشدد اور ان کا قتل عام معمول بن چکا ہے اور اس بار بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں ہندو انتہا پسندوں نے گائے کا گوشت رکھنے کےشبے میں 2 مسلمان خواتین کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست مدھیہ پردیش کے علاقے مندسور میں 2 مسلمان خواتین کے پاس مبینہ طور پر گائے کا گوشت ہونے کی اطلاع پر پولیس نے ریلوے اسٹیشن پر چھاپہ مار کر دونوں خواتین کو گرفتار کیا تو وہاں موجود ہندوؤں نے دونوں خواتین کو بری طرح تشدد کا نشانہ بنانا شروع کردیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں خواتین کو تقریبا آدھے گھنٹے تک مکوں، لاتوں اور تھپڑوں کی بارش کرکے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا جب کہ اس دوران وہاں موجود پولیس اہلکاروں نے انھیں چھڑانے کی بالکل بھی کوشش نہیں کی۔
بعد ازاں گوشت کو ٹیسٹ کے لئے لیبارٹری بھجوایا گیا تو معلوم ہوا کہ گوشت گائے کا نہیں بلکہ بھینس کا ہے تاہم اس کے باوجود تشدد کرنے والے کسی بھی شخص نہ تو گرفتار کیا گیا اورنہ ہی مقدمہ درج کیا گیا، یہی نہیں بھارتی پولیس نے الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق خواتین پر بغیر پرمٹ کے گوشت فروخت کرنے کا مقدمہ درج کردیا۔
ایکسپریس نیوز
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…