بھارت میں گائے ذبح کرنے اور اس کا گوشت کھانے کے الزام میں مسلمانوں پر تشدد اور ان کا قتل عام معمول بن چکا ہے اور اس بار بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں ہندو انتہا پسندوں نے گائے کا گوشت رکھنے کےشبے میں 2 مسلمان خواتین کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست مدھیہ پردیش کے علاقے مندسور میں 2 مسلمان خواتین کے پاس مبینہ طور پر گائے کا گوشت ہونے کی اطلاع پر پولیس نے ریلوے اسٹیشن پر چھاپہ مار کر دونوں خواتین کو گرفتار کیا تو وہاں موجود ہندوؤں نے دونوں خواتین کو بری طرح تشدد کا نشانہ بنانا شروع کردیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں خواتین کو تقریبا آدھے گھنٹے تک مکوں، لاتوں اور تھپڑوں کی بارش کرکے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا جب کہ اس دوران وہاں موجود پولیس اہلکاروں نے انھیں چھڑانے کی بالکل بھی کوشش نہیں کی۔
بعد ازاں گوشت کو ٹیسٹ کے لئے لیبارٹری بھجوایا گیا تو معلوم ہوا کہ گوشت گائے کا نہیں بلکہ بھینس کا ہے تاہم اس کے باوجود تشدد کرنے والے کسی بھی شخص نہ تو گرفتار کیا گیا اورنہ ہی مقدمہ درج کیا گیا، یہی نہیں بھارتی پولیس نے الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق خواتین پر بغیر پرمٹ کے گوشت فروخت کرنے کا مقدمہ درج کردیا۔
ایکسپریس نیوز
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…