چین نے ملک کے مسلم اکثریتی علاقے میں سرکاری ملازمین، طلباء اور بچوں کے رمضان کے روزے رکھنے پر روک لگا دی ہے۔
مسلمانوں کا مقدس مہینہ رمضان پیر سے شروع ہوچکا ہے، چین کی حکمراں کمیونسٹ پارٹی سرکاری طور پر ملحد ہے اور وہ گزشتہ کئی برسوں سے شنجيان صوبے میں سرکاری ملازمین اور بچوں کے روزے رکھنے پر پابندی لگاتی رہی ہے۔
غور طلب ہے کہ شنجيان صوبے میں ایک کروڑ مسلمان رہتے ہیں جس میں زیادہ تر مسلم اویغور اقلیت ہیں۔ اس نے پورے دن ہوٹلوں کو بھی کھلے رکھنے کا حکم دیاہے ۔ خطہ میں اویغور اور ریاستی سیکورٹی فورسز کے درمیان اکثر جھڑپیں ہوتی ہیں۔
چین نے وہاں اور ملک میں دیگر مقامات پر ہونے والے حملوں کے الزام ان دہشت گردوں پر عائد کئے ہیں جو وسائل سے مالا مال اس علاقے کی آزادی کا مطالبہ کرتے ہیں۔حقوق کے گروپ کشیدگی کے لئے مذہبی اور ثقافتی پابندیوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں جو کہ علاقے میں اویغور اور دیگر مسلم اقلیتوں پر لگائی جاتی ہیں۔
شنجيان صوبے میں بہت سے مقامی سرکاری محکموں نے گزشتہ ہفتے اپنی ویب سائٹس پر رمضان المبارک کے دوران روزے پر پابندی کے احکامات والے نوٹس لگائے تھے۔
بصیرت آن لائن
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…