چین نے ملک کے مسلم اکثریتی علاقے میں سرکاری ملازمین، طلباء اور بچوں کے رمضان کے روزے رکھنے پر روک لگا دی ہے۔
مسلمانوں کا مقدس مہینہ رمضان پیر سے شروع ہوچکا ہے، چین کی حکمراں کمیونسٹ پارٹی سرکاری طور پر ملحد ہے اور وہ گزشتہ کئی برسوں سے شنجيان صوبے میں سرکاری ملازمین اور بچوں کے روزے رکھنے پر پابندی لگاتی رہی ہے۔
غور طلب ہے کہ شنجيان صوبے میں ایک کروڑ مسلمان رہتے ہیں جس میں زیادہ تر مسلم اویغور اقلیت ہیں۔ اس نے پورے دن ہوٹلوں کو بھی کھلے رکھنے کا حکم دیاہے ۔ خطہ میں اویغور اور ریاستی سیکورٹی فورسز کے درمیان اکثر جھڑپیں ہوتی ہیں۔
چین نے وہاں اور ملک میں دیگر مقامات پر ہونے والے حملوں کے الزام ان دہشت گردوں پر عائد کئے ہیں جو وسائل سے مالا مال اس علاقے کی آزادی کا مطالبہ کرتے ہیں۔حقوق کے گروپ کشیدگی کے لئے مذہبی اور ثقافتی پابندیوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں جو کہ علاقے میں اویغور اور دیگر مسلم اقلیتوں پر لگائی جاتی ہیں۔
شنجيان صوبے میں بہت سے مقامی سرکاری محکموں نے گزشتہ ہفتے اپنی ویب سائٹس پر رمضان المبارک کے دوران روزے پر پابندی کے احکامات والے نوٹس لگائے تھے۔
بصیرت آن لائن
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…