مہمان طلبہ ملکوں کو قریب لاسکتے ہیں

شام سے جو پناہ گزین ترکی کی سرزمین پر آچکے ہیں ان کے بچوں کو تو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرسکتے ہیں۔ اس کا اختیار اور طاقت تو ہمارے اندر موجود ہے اور ہم اسے بروئے کار لاسکتے ہیں تو کم از کم اسے تو عملی جامہ پہنائیں، اس لیے ہمارا یہ موٹو اور نعرہ ہے کہ جو بھی ہمارے ملک میں آئے وہ ہمارا مہمان ہے اور جو مسلمان آئے تو وہ ہمارا بھائی ہے۔ اسی نظریے کے تحت ہم بارہ سال سے اسے اپنے دین اور ایمان کا حصہ سمجھ کر مہمان طلبہ کی خدمت کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ جو طلبہ یہاں سے پڑھ کر جاچکے ہیں ہم ان کے ملکوں میں جاکر ان سے ملاقات بھی کرتے ہیں۔ آج میرا پاکستان کی سر زمین پر موجود ہونے کے مقاصد میں سے ایک اہم اور بڑا مقصد بھی یہی ہے کہ ترکی سے تعلیم پانے والے طلبہ سے ملاقات کی جائے۔ پاکستان میں آنے کی دوسری غرض یہ بھی ہے کہ دنیا کے اسلامی ملکوں میں پاکستان ایک اہم ملک ہے۔ یقیناً پاکستان کے اندر دنیا کے کئی ممالک سے طلبہ آکر پڑھ رہے ہیں جو پاکستانی نہیںہیں۔ کیا ہمارے طرز پر، ہماری سوچ اور طریقہ کار کے مطابق اگر پاکستان میں دوسرے ملکوں سے آنے والے طلبہ کے لیے اگر کام ہورہا ہے تو ہم ان سے بھی ملاقات کریں اور ان سے بھی مزید سیکھیں۔ ہم اپنے تجربات انہیں بتائیں اور ان کے تجربات سے خود سیکھیں۔ پاکستان میں جو غیر ملکی طلبہ موجود ہیں انہیں سنبھالنا اور ان سے ہمیں کیا فوائد حاصل ہوں گے؟ یہ کتنا ضروری ہے؟ اس حوالے سے آپس میں بیٹھ کر مذاکرہ کرنا بھی ہمارے مقاصد میں شامل ہے۔
اس وقت پوری دنیا میں اپنے ملک سے دیگر ممالک میں جاکر تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد پانچ ملین ہے اور ان میں سے تقریباً تین ملین طلبہ مسلمان ہیں۔ اگر محنت کی جائے تو مستقبل میں امت کو آپس میں ملانے والے اور اکھٹا کرنے کی صلاحیت رکھنے والے یہی تین ملین طلبہ ہوسکتے ہیں۔ پاکستان کیا ہے؟ کیسا ہے؟ ہم نے ترکی میں بیٹھ کر پاکستان کو کیسا سمجھا ہے اور کیسا پایا ہے؟ یہ ہم نے ترکی کے ان طلبہ سے سمجھا ہے جو پاکستان سے پڑھ کر گئے تھے۔ تب ہمیں علم ہوا کہ پاکستان کتنا اہم ملک ہے؟ اس سے ہمیں سمجھ آئی کہ ایسے طلبہ کے ذریعے دوسرے ملکوں کو بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ ایسے مسافر طلبہ ملکوں کے درمیان ایک پل کا کام کرسکتے ہیں اور کرتے بھی ہیں۔ اگر ہم ایک امت ہیں اور یقیناً ہم ایک امت ہیں تو جتنے ہم دور دور ہیں، ہمارے لیے اس طرح کے پل اور راستے بھی ضرور ہونے چاہییں۔ اور یہ پل کون ہیں؟ یہ پل ’’بین الاقوامی طلبہ‘‘ ہیں۔ اس کے بعد یہ سمجھنا آسان ہے کہ یہ کام کتنا اہم اور عظیم ہے۔ اس لیے ہمارے ایک گروپ نے باقی سارے کام چھوڑ کر اس طرف اپنی تمام تر صلاحیتیں صرف کی ہوئی ہیں۔ اور ’’اُدیف‘‘ جو ادارہ ہے اس کی یہی غرض اور یہی مقصد ہے۔

٭… اس ادارے کی ابتدا کیسے ہوئی؟ نظام کیسے سنایا گیا؟ اور آیندہ کے متعلق کیا ارادے ہیں؟ O… 2004ء میں یہ ایک سادہ سا ادارہ بنایا گیا تھا، اس کے لیے جب ہم نے کوشش کی کہ اس کام کو کیسے سرانجام دیں تو ہم نے دنیا میں بڑی چھان بین کی کون سا ادارہ ایسا ہے جس سے ہم سمجھ سکیں تو ہمیں کچھ بھی نہیں ملا۔ ہاں! ہمیں اس سے یہی پتا چلا کہ ہر ایک اپنے ملک میں اپنے طلبہ پر ہی محنت کرتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی اس سے قبل تمام تنظیمیں اپنے ہی طلبہ پر محنت کرتی تھیں۔ بین الاقوامی سطح پر طلبہ پر محنت کرنے کے سلسلے میں ہمیں کوئی نمونہ یا آئیڈیل نہیں ملا۔ چار سال تک ہم اس نہج پر محنت کرتے رہے اور خود ہی اپنی محنت سے بہت کچھ سیکھا کہ اس سلسلے میں کیا کچھ کیا جاسکتا ہے؟ 2008ء میں ہم نے اسے بند کر کے بابِ عالم کے نام سے منظم انداز میں نئے سرے ایک ادارے کا قیام عمل میں لایا۔ اس کے بعد ادارے کا جو نام، منشور اور کاغذی کارروائی کو اس مقصد اور غرض سے ترتیب دیا۔ جب ہر شہر میں اس طرح کے مزید ادارے بڑھے تو پھر اس کو ’’ادیف‘‘ کے نام سے 2012ء میں ہیڈ آفس بنایا گیا۔ بابِ عالم جو کہ استنبول میں بنایا تھا تو پھر اسی طرز پر ’’قونیہ‘‘ میں بنایا، ’’آسیہ، انقرہ اور اس طرح مختلف شہروں میں بنایا۔ لیکن انہیں بابِ عالم کے طور پر نہیں بنایا، بلکہ ہر ایک کو مستقل ادارے کے طور پر ایک نئے نام سے بنایا۔ البتہ ترکی کے تقریباً تمام شہروں میں ایسے مختلف ادارے بنے۔ اسے ایک فیڈریشن بنایا اور اس کا نام ’’اُدیف‘‘ رکھا۔ بابِِ عالم اور اس طرح کی دیگر تنظمیں بھی اپنے اپنے شہروں میں کام کررہی ہیں۔

ابھی ہم 2016ء میں ہیں اور 2015ء کے وسط سے ہم بین الاقوامی سطح پر اپنے ملک سے باہر دوسرے اسلامی ملکوں کا جائزہ لے رہے ہیں کہ دیگر اسلامی ملکوں میں کیا ہورہا ہے؟ اور مزید کیا ہوسکتا ہے؟ اور اس میں ہم لوگ ان کی کیا مدد کرسکتے ہیں؟ اس وقت میں پاکستان آیا ہوں۔ اسی طرح میرا ایک دوسرا ساتھی سوڈان میں ہے۔ آئندہ مہینے ہم انڈیا کا سفر کریں گے۔ اسی طرح ہمارے دوسرے ساتھی انڈونیشیا اور ملائیشا گئے ہوئے ہیں۔ اسی طرح تھائی لینڈ اردن، کویت، سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک میں بذاتِ خود ہو کر آیا ہوں۔ ہم ان ممالک میں جاکر ایسا ادارہ تلاش کرتے ہیں اور ان سے سیکھتے بھی ہیں اور اپنے تجربات بھی انہیں بتاتے ہیں۔

جہاں ایسے ادارے نہیں ہیں تو وہاں اس کام میں رغبت رکھنے والی شخصیات کو تلاش کر کے اس طرح کے ادارے کی طرف رغبت دلاتے ہیں۔ اور اپنا نظام وانتظام بھی انہیں دینے کی پیش کش بھی کرتے ہیں۔ ہم نے اپنے پرانے رفقاء کے ساتھ مل کر چھ ماہ قبل ایک سہ روزہ کانفرس کی جس میں تمام ممالک سے تقریباً 30کے قریب ہمارے پرانے طلبہ بھی شریک ہوئے ہیں۔

ان کے ساتھ نشست کے بعد ہم نے اندازہ لگایا کہ تقریباً 18 ممالک ایسے ہیں کہ جن میں کوئی کام نہیں ہو پایا اور نہ ہی ہو پا رہا ہے۔ ان کے علاوہ جو بارہ تھے ان میں کام کی کچھ شکل بن چکی تھی۔ ان کے ساتھ خصوصی طور پر ترتیب بنائی گئی۔ ان کے ساتھ چھ مہینے سے ہم مستقل رابطے میں ہیں۔ ان کے ساتھ آیندہ چند مہینوں میں استنبول کے اندر دوبارہ ایک خصوصی میٹنگ ہے۔ اگر ہم کامیاب ہوگئے تو جس طرح اس وقت ترکی کے اندر ایک فیڈریشن ہے، بالکل اسی طرح ہم ایک عالمی پلیٹ فارم بنائیں گے جو مختلف ملکوں کی غیر ملکی طلبہ کے لیے ایک عالمی سطح کی تنظیم ہوگی۔ اس کے قیام کے بعد عالمی سطح پر دنیا کے طلبہ کی آمد و رفت کو دیکھتے ہوئے ان کی رہنمائی کریں گے، ان شاء اللہ۔

اس کے ذریعے ہماری کوشش ہو گی کہ ترکی پاکستان کی یونیورسٹیز سے رابطہ کرے۔ کتنے طلبہ ترکی سے پاکستان جارہے ہیں اور مزید کتنے جانا چاہتے ہیں؟ ان تعداد کو بڑھانے کے لیے کیا اقدامات کیے جاسکتے ہیں؟ ترکی سے باہر ہمارے طلبہ کہاں کہاں جائیں اور انہیں کہاں بھیجا جائے؟ جو طلبہ ترکی میں آنا چاہتے ہیں، کہاں کہاں سے زیادہ آنے چاہییں اور ان کی تعداد میں کیسے اضافہ کیا جائے؟ اس پر بھی نظر رکھی گئی ہے۔ جلد ہی ہم اردن، انڈونیشیا، سوڈان سے مزید طلبہ کو ترکی بلائیں گے۔ آئندہ چل کر پوری دنیا سے ہمارے کن کن شعبوں میں طلبہ کا رجوع ہونا چاہیے اور عالمی سطح پر ہمارے پاس کس کس فیلڈ کے طلبہ ہونے چاہییں، آگے چل کر اس پر بھی توجہ دیں گے۔ صرف پاکستان، سوڈان یا چند قریبی ممالک کو ہدف نہیں بنانا، بلکہ پوری دنیا کے ممالک کے طلبہ پر توجہ دینی ہے۔

٭… آپ کا ادارہ سرکاری ہے یا نجی؟ یہ کن وسائل کی بنیاد پر کام کرتا ہے؟
O… یہ بالکل ایک نجی سرگرمی ہے۔ اس کا وجود کسی حکومتی ادارے سے پیدا نہیں ہوا ہے۔ یہ طیب اردگان کا جو ’’ملی گوروش‘‘ فلسفہ تھا، اس کے تحت وجود میں آئی ہوئی ایک سوچ کا نتیجہ ہے اور ’’آئی ایچ ایچ‘‘ جو کہ ہمارا ایک ریلیف کا ادارہ ہے۔ یہ سب اس کی محنت اور اس کے فنڈ سے مستحکم کیا گیا ہے۔ اسی لیے اب تک ’’ملی گوروش‘‘ فلسفے والے جو لوگ ہیں ان کے انفرادی تعارف اور’’آئی، ایچ، ایچ‘‘ جیسے ادارے کی فنڈنگ سے ہم اسے چلا رہے ہیں۔ جب سے ہم نے یہ کام شروع کیا ہے اس وقت سے ہی طیب اردگان کی پارٹی برسرِ اقتدار ہے اور حکومت کا ہمارے ساتھ یہ تعاون ہے کسی بھی جگہ انہوں نے ہمارے لیے رکاوٹ کھڑی نہیں کی، بلکہ اس کے برعکس حکومت نے جب دیکھا کہ ہم ایک اچھا کام کررہے ہیں تو انہوں نے ہمارے لیے راستے کھول دیے۔ چونکہ ہماری موجودہ سیاسی حکومت بھی اسی قسم کے جذبات سے سرشار ہے اور ہمارے نظریات انہی کی طرح ہیں۔ اسی لیے ان کے دور میں ہمارے لیے چلنا اور اپنے کام کو سرانجام دینا بہت آسان ہے۔ اس کے باوجود ہم جو یہ کام کررہے ہیں اس کے لیے ہم ’’آق پارٹی‘‘ یا کسی بھی سیاسی پارٹی سے اجازت لے کر نہیں کرتے، بلکہ یہ بالکل ایک عوامی سوچ اور ان کے نیک ارادوں کے مرہونِ منت ہے۔ یہ بالکل مکمل طور پر ایک سیول موومنٹ ہے۔ ہاں! البتہ موجودہ حکومت کے ساتھ نظریاتی یکسانیت کی وجہ سے باہم اتفاق سے چلتے ہیں۔ اسی لیے حکومت کے بلدیاتی ادارے وقتاً فوقتاً ہمارے پروگراموں میں ہمارے ساتھ بھرپور مدد کرتے ہیں۔ مثلاً: ان کا ہال استعمال کیا۔ ان کے اداروں کو استعمال کرنا وغیرہ۔ (جاری ہے)

baloch

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago