Categories: عالم اسلام

مزدوروں کا عالم دن، غزہ کے 70 فی صد مزدور پیشہ شہری غربت کا شکار

فلسطین میں جنرل لیبر فیڈریشن نے مزدوروں کے عالم دن کی مناسبت سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی پابندیوں کے نتیجے میں غزہ کی پٹی کے 70 فی صد مزدور پیشہ شہری غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی ناکہ بندی کے باعث غزہ میں 60 فی صد مزدور بے روزگار ہیں۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطین کی جنرل لیبر فیڈریشن کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 2015ء غزہ کے مزدوروں کے لیے بدترین سال رہا ہے۔ اس دوران غزہ کے رہنے والے سو دولاکھ مزدوربے روزگار رہے جس کے نتیجے میں غریبوں کے چولہے ٹھنڈے رہے۔

رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے 40 ہزار افراد براہ راست مزدور طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جب کہ 30 ہزار افراد کی روزی بالواسطہ طورپر اس شعبے سے وابستہ ہے۔ مجموعی طورپر ستر ہزار کنبے اسرائیلی پابندیوں سے متاثر ہو رہے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں مزدوروں کے لیے سب سے بڑا ذریعہ روزگار تعمیراتی کام ہیں۔ مگر اسرائیلی کی طرف سے غزہ کی پٹی پرعاید پابندیوں کے باعث تعمیراتی منصوبے بھی ٹھپ ہیں۔ غزہ پراسرائیلی پابندیوں کے نفاذ سے قبل 35 سے 40 ہزار افراد مزدوری پیشہ تھے اور انہیں کسی نہ کسی شکل میں کام مل جاتا تھا۔

عام مزدوری پیشہ شہریوں میں 15 ہزار مزدور زراعت، 9000 کپڑا سازی کی صنعت سے وابستہ ہیں۔ اسرائیلی ناکہ بندی کے باعث چونکہ صنعتی پیداوار 20 فی صد سے زیاد نہیں ہوسکی۔ یہی وجہ ہے کہ غزہ کی پٹی میں مزدور طبقے میں بے روزگاری کی شرح اور غربت میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 2006ء سے قبل غزہ کی پٹی میں 3900 چھوٹے بڑے کارخانے تھے جن سے 23 ہزار خاندانوں کا روزگار وابستہ تھا۔ اسرائیلی فوج کی غزہ پر باربار مسلط کی گئی جنگوں کے دوران 500 بڑے کارخانے تباہ کردیے جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد بے روزگار ہوئے ہیں۔

سنہ 2014ء کی جنگ میں غزہ کی پٹی کے 936 صنعتی مراکز اور کارخانے تباہ کیے گئے۔ جب کہ بمباری سے 3227 تجارتی مراکز اور 1171 سیاحتی اور دیگر کو تباہ کیا گیا۔

سنہ 2014ء کی جنگ میں اسرائیلی بمبارے سے غزہ میں 29 ہزار 845 شہری بے روزگار ہوئے۔ یہ تعداد کل بے روزگار افراد کا 32 فی صد ہے۔

بمباری سے غزہ میں فرنیچر سازی کے500 کارخانے متاثر ہوئے جن سے 5000 افراد کا روزگار وابستہ تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے غزہ جنگ کے دوران اسرائیلی فوجیوں نے 70 فلسطینی ماہی گیروں کو حراست میں لیا اور ان کی 40 کشتیاں ضبط کی گئیں۔

مرکز اطلاعات فلسطین

baloch

Recent Posts

اسلامی ممالک کا ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہونے میں کوئی خیر یا فائدہ نہیں

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے 31 جولائی 2026ء کے خطبہ جمعہ میں مشرقِ وسطیٰ میں…

7 hours ago

“عدل و انصاف کی ترویج”، “متحرک معیشت”، اور “عوام کی رضامندی” حکومتوں کی بقا کا راستہ ہیں

"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…

1 week ago

حقوق اللہ اور حقوق الناس کی پامالی تقویٰ اور اعتدال کے راستے سے نکلنے کے مترادف ہے

زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…

2 weeks ago

“مذاکرات اور بات چیت” ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے

3 weeks ago

غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، 9 سالہ بچی سمیت کم از کم 6 فلسطینی شہید

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

3 weeks ago

اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سب سے بڑا جہاد ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…

4 weeks ago