یمن کے شہر تعز میں “العربیہ” نیوز چینل کے نمائندے کے مطابق حوثی اور معزول صدر علی_صالح کی ملیشیاؤں نے ہفتے کے روز جنگ بندی کے اس معاہدے کی صریح خلاف ورزی کی جس پر فائربندی کی نگراں کمیٹی میں شامل تمام فریقوں کے نمائندوں نے دستخط کیے تھے۔
باغی ملیشیاؤں نے تعز شہر کے نزدیک اولڈ ایئرپورٹ کے علاقے میں “بریگیڈ 35” کے ہیڈکوارٹر پر حملہ کردیا۔ حوثیوں نے شہر کے مشرق میں واقع گورنری صالہ میں اپنے ٹھکانوں سے ثعبات کے علاقے کو بمباری کا نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ جبل صبر کے مشرق میں الشقب کے علاقے میں عوامی مزاحمت کاروں کے ٹھکانوں پر بھی گولہ باری کی گئی۔
اس سے پہلے تعز میں ذرائع نے “العربیہ” نیوز چینل کو اس امر کی تصدیق کی تھی کہ تعز صوبے میں فائربندی کی نگرانی کرنے والی مقامی کمیٹی تمام فریقوں کے نمائندوں کے ساتھ جنگ بندی کے آغاز اور محاصرہ ختم کرنے پر متفق ہوگئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ معاہدے کے مطابق تعز شہر کے احاطے میں محاذوں پر جنگ بندی کا اطلاق ہفتے کی دوپہر دو بجے سے ہوجانا تھا۔ اس کے علاوہ مشرق کی طرف سے تعز اور صنعاء کو ملانے والا راستہ جب کہ مغرب کی جانب سے تعز اور الحدیدہ کو ملانے والا راستہ کھولا جانا تھا۔
ذرائع کے مطابق یہ بات بھی طے پائی تھی کہ ہر فریق اپنے پاس موجود قیدیوں اور گرفتار شدگان کے ناموں کی فہرست کمیٹی کو پیش کرے گا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان