روس کی مسلح افواج کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شدت پسند تنظیم ’النصرہ فرنٹ‘ کے جنگجوؤں نے شام کے جنگ زدہ شہر حلب میں ایک بڑی کارروائی اور حلب اور دمشق کے درمیان سپلائی لائن کاٹنے کے لیے اپنی قوت مجتمع کرنا شروع کر دی ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق روس کی مسلح افواج کے مرکزی آپریشنل کنٹرول روم کے سربراہ جنرل سیرگی روڈسکوی نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ النصرہ محاذ کے 9500 جنگجوؤں نے حلب میں ایک بڑے حملے کی تیاری شروع کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شدت پسند تنظیم کے جنگجو جنوب مغربی حلب اور شمالی حلب میں منظم ہو رہے ہیں۔ ان کا ہدف حلب پر حملہ کے ساتھ ساتھ حلب اور دمشق کے درمیان سپلائی لائن منطقع کرنا ہے۔
روسی فوجی عہدیدار کا کہنا تھا کہ شام اور روس کی سرکاری فوجیں النصرہ محاذ کے حملے کو ناکام بنانے کے لیے کوشاں ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ فی الوقت روس کا حلب پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
مسٹر سیرگی روڈ سکوی کا کہنا تھا کہ شام میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جنگ بندی قائم ہے تاہم بعض مقامات پر جنگ بندی کی خلاف ورزیاں بھی نوٹ کی گئی ہیں۔
العربیہ
فاس شمالی افریقہ کے مسلم اکثریتی ملک مراکش کا ایک قدیم شہر ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید