روس کی مسلح افواج کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شدت پسند تنظیم ’النصرہ فرنٹ‘ کے جنگجوؤں نے شام کے جنگ زدہ شہر حلب میں ایک بڑی کارروائی اور حلب اور دمشق کے درمیان سپلائی لائن کاٹنے کے لیے اپنی قوت مجتمع کرنا شروع کر دی ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق روس کی مسلح افواج کے مرکزی آپریشنل کنٹرول روم کے سربراہ جنرل سیرگی روڈسکوی نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ النصرہ محاذ کے 9500 جنگجوؤں نے حلب میں ایک بڑے حملے کی تیاری شروع کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شدت پسند تنظیم کے جنگجو جنوب مغربی حلب اور شمالی حلب میں منظم ہو رہے ہیں۔ ان کا ہدف حلب پر حملہ کے ساتھ ساتھ حلب اور دمشق کے درمیان سپلائی لائن منطقع کرنا ہے۔
روسی فوجی عہدیدار کا کہنا تھا کہ شام اور روس کی سرکاری فوجیں النصرہ محاذ کے حملے کو ناکام بنانے کے لیے کوشاں ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ فی الوقت روس کا حلب پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
مسٹر سیرگی روڈ سکوی کا کہنا تھا کہ شام میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جنگ بندی قائم ہے تاہم بعض مقامات پر جنگ بندی کی خلاف ورزیاں بھی نوٹ کی گئی ہیں۔
العربیہ
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…