خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے آٹھ اپریل دوہزار سولہ (انتیس جمادی الثانی) کے خطبہ جمعہ میں ’ایمان‘ اور ’نیک اعمال‘ کو موت بالایمان کے لیے ضروری قرار دیا۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں فرزندانِ توحید سے خطاب کرتے ہوئے کہا: انبیا علیہم السلام اور نیک و صالح لوگ ہمیشہ اپنے خاتمہ کے لیے دعا کرتے تھے۔ ایمان کے ساتھ موت بندے کو اللہ تعالی کے غضب سے نجات دلاتی ہے۔ اس سے اللہ تعالی کی رضامندی حاصل ہوتی ہے۔
انہوں نے مزیدکہا: ایماندار شخص ہمیشہ اللہ تعالی کی ملاقات کے لیے بے تاب رہتاہے۔ موت سے کوئی خوف نہیں کھاتا اگر اس کے لیے تیار ہو۔ جو افراد موت کے لیے تیاری کرچکے ہوتے ہیں، وہ ہرگز موت سے نہیں بھاگ جاتے؛ موت انہیں ان کے محبوب تک پہنچاتاہے۔ آج کل بہت سارے لوگ اللہ تعالی کی محبت کے بلندوبالا دعوا کرتے ہیں لیکن عمل کے میدان میں سست ہیں۔
صدر دارالعلوم زاہدان نے کہا: انسان اس وقت خیر پر دنیا سے کوچ کرتاہے کہ اللہ تعالی کی رضامندی حاصل کرلے، اس کا عمل ٹھیک ہو اور قوی ایمان کے مالک ہو۔ جب بندے کا ایمان قوی ہوتاہے، تب وہ تقوا اور پرہیزگاری کا حق ادا کرتاہے۔
گناہ و معاصی کی مذمت بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا: گناہ اور معصیت بندے کو پلیدی میں ڈال دیتی ہے۔ جو شخص گناہ کی طرف جاتاہے، در اصل اس کا دل بیمار ہے۔ دل تمام اعضا و جوارح کا سردار ہے۔ لہذا نیک اعمال اور اخلاق سے قلب کو فساد و تباہی سے بچانا چاہیے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے ’احسان و اخلاص‘ کو ایمان کو مزید مستحکم کرنے والی شی یاد کرتے ہوئے کہا: عبادات میں ’احسان‘ کا خیال رکھنا چاہیے اور توجہ کے ساتھ اللہ رب العزت کی عبادت ہونی چاہیے۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے: ’اس شخص سے کس کا دین اچھا ہوسکتاہے جس نے حکم خدا کو قبول کیا اور وہ نیکوکار بھی ہو‘؛(نساء: 125) نیز حدیث شریف میں آیاہے اللہ تعالی کی عبادت اس طرح کیاکرو کہ تم اللہ کو دیکھ رہے ہو، اگر تم اللہ کو نہیں دیکھتے ہو، تو اللہ ضرور تمہیں دیکھتاہے۔
انہوں نے مزیدکہا: ہر عبادت اللہ تعالی کی رضامندی حاصل کرنے کے لیے کرنی چاہیے، ریا اور دوسروں کو دکھانے والا شخص بہت خطرناک اور بدترین گناہ کا مرتکب ہوتاہے۔ اس سے دل خراب ہوتاہے۔ دین پر استقامت کرنے اور گناہوں سے اجتناب کرنے پر بندے کو ایمان کے ساتھ موت نصیب ہوتی ہے۔ جو شخص اللہ کی راہ میں زیادہ خرچ کرتاہے، اسے بھی اللہ تعالی ایمان کے ساتھ موت نصیب فرماتاہے۔
مولانا عبدالحمید نے اپنے بیان کے اس حصے کے آخر میں تقوا و دینداری کی اہمیت واضح کرتے ہوئے کہا: ہمیشہ دین اور تقوا کا لباس زیب تن کریں۔ ایسی ہی زندگی گزارنے کے بعد خاتمہ بالایمان نصیب ہوسکتاہے۔
خاش کے ٹیچر نے بڑی قربانی دیکر مثال قائم کردی
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے اپنے بیان کے ایک حصے میں ایرانی بلوچستان کے شہر خاش کے روتک ٹاون (پاکستان کی سرحد کے قریب) میں ایک سکول ٹیچر کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: کچھ دنوں پہلے خاش کے روتک علاقے میں سکول کے قریب ایک کچھی دیوار بچوں پر گررہی تھی کہ ان کا استاذ حمیدرضا گنگوزہی آگے بڑھ جاتا ہے اور بچوں کو بچا کر خود شہید ہوجاتاہے۔ اس واقعے کو پورے ملک میں کوریج ملا اور صدر مملکت و وزیر تعلیم سمیت بہت ساری شخصیات نے اس استاذ کے اقدام اور قربانی کو سراہا جس نے مثال قائم کردی۔ ہم حمیدرضا کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے مزیدکہا: حدیث شریف میں آیاہے جس شخص پر دیوار گرجائے، وہ شہید ہے۔ اعلی حکام کی توجہ پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ وزیرتعلیم بذات خود تہران سے اٹھ کر خاش چلے گئے اور شہید ٹیچر کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ یہ قابل قدر اقدام ہے۔
اپنے خطاب کے آخر میں خاش شہر کی ایک جامع مسجد میں فائرنگ کے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے خطیب اہل سنت نے کہا: گزشتہ جمعہ میں خاش کی ایک مسجد میں نامعلوم افراد نے مسجد کے اندر گھس کر ایک شخص پر فائر کھولی اور نمازکے لیے آنے والے فرد کو قتل کردیا۔ یہ سفاکیت کی انتہا ہے اور اس کی جتنی مذمت کی جائے، کم ہے۔ مسجد اللہ کا گھر ہے اور اس میں ایسے اقدامات کا ارتکاب افسوسناک اور شرمناک ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…